ریاض۔/23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام)سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کہا ہے کہ سعودی حکومت اقتصادی سرگرمیاں بتدریج بحال کرنے کی تجویز پر غور کررہی ہے۔وزیر خزانہ نے کورونا وائرس کی وبا سے متعلق نئے اقتصادی حالات کے حوالے سے ویڈیو کانفرنس کی ہے۔سعودی میڈیا کے مطابق الجدعان نے کہا کہ سعودی حکومت صحت عامہ کو نقصان پہنچائے بغیر اقتصادی سرگرمیاں بتدریج بحال کرے گی۔ اس حوالے سے جائزے تیار کیے جارہے ہیں۔ الجدعان نے کہا کہ کورونا بحران کے نقصانات کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کورونا کی تازہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔شاہ سلمان نے جی 20 کے قائدین سے درخواست کرکے پہلی ہنگامی آن لائن سربراہ کانفرنس طلب کی تھی۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے موقع پر جی 20 کے قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ تمام ممالک مل کر وبا سے پیدا ہونے والے سماجی اور اقتصادی نقصانات کی تلافی کریں گے اور معیشت کی بحالی کے لیے واضح اقدامات کریں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ خدشہ ہے کہ کورونا بحران کئی ماہ تک چلے گا ممکن ہے کہ اس سے پیدا ہونے والے صحت مسائل 2020 کے آخر تک چلتے رہیں۔ حفاظتی اقتصادی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے وہ سب عارضی ہیں۔ ان پر عمل درآمد تیزی سے کیا جاتا رہے۔اگر صحت حالات نے اجازت دی تو حکومت اقتصادی سرگرمیاں بتدریج بحال کرے گی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے احتیاط مسلسل نگرانی اور ضروری فیصلے جلد کرنے کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ محفوظ زرمبادلہ کی بدولت سعودی عرب بحران کا مقابلہ مضبوط موقف کے ساتھ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔وزیر خزانہ نے اطمینان دلایا کہ سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کی صحت سلامتی سعودی حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ وائرس سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے کو 47 ارب ریال کا اضافی بجٹ دیا گیا ہے۔ سعودی معیشت کو کورونا کی وجہ سے آمدنی میں کمی کا چیلنج درپیش ہے۔سرکاری اخراجات درپیش چیلنجوں کو مدنظر رکھے ہوئے متوازن انداز میں کررہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ عوام اس بحران سے معاشی طور پر متاثر نہ ہوں۔الجدعان نے کہا کہ محفوظ اثاثوں سے 110 سے 120 ارب ریال سے زیادہ نکالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ شاہ سلمان اور ولی عہد واضح ہدایات دیے ہوئے ہیں کہ نجی اداروں کے واجبات پہلی فرصت میں ادا کردیے جائیں۔ اس مد میں 23 ارب ریال مختص کیے جاچکے ہیں۔ الجدعان نے کہا کہ سعودی حکومت مزید مدد کے لیے کورونا بحران سے زیادہ متاثرین ہونے والے شعبوں کے حالات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔فیسوں کی ادائیگی یا مقابل مالی معاف کرنے یا بعض فیسیں نہ لینے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ فیسوں کی وصولی چھ ماہ سے نو ماہ تک ملتوی کی جاسکتی ہے۔جن فیسوں کو ملتوی کرنیکافیصلہ کیا گیا ہے انہیں مکمل طور پر معاف کرنے کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔