خدمات کی فراہمی اورہوم ڈلیوری سروس کے نئے حفاظتی قواعد جاری
ریاض۔30مئی( سیاست ڈاٹ کام )سعودی وزارت داخلہ نے 31 مئی 8 شوال سے 20 جون 28 شوال کے دوران ریستورانوں، قہوہ خانوں اور ہوم ڈلیوری سروس کے حوالے سے حفاظتی قواعد و ضوابط جاری کردیے۔ 31 مئی سے انہیں گاہکوں کو داخلی سروس فراہم کرنے کی اجازت دے جاچکی ہے۔وزارت داخلہ نے ریٹیل، تھوک کی دکانوں اور تجارتی مراکز کے حوالے سے بھی قواعدو ضوابط جاری کیے ہیں۔ میڈیا کے مطابق وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ ریستوران کرفیو سے خارج اوقات میں گاہکوں کو ریستوران کے اندر کھانا پیش کرسکتے ہیں۔ ریستوران کرفیو کے دوران ہوم ڈلیوری سروس مہیا کرسکتے ہیں البتہ شیشے پر پابندی رہے گی اور بچوں کے پلے لینڈ بند رہیں گے۔وزارت داخلہ نے پابندی لگائی ہے کہ ریستورانوں، قہوہ خانوں اور ہوم ڈلیوری سروس فراہم کرنے والے سروس فراہم کرتے وقت ماسک اور دستانوں کا استعمال کریں گے. سینیٹائزراستعمال کریں گے۔ اس حوالے سے ڈسپوزل برتن استعمال کریں گے. ایسی اشیا جنہیں بار بار چھوا جاتا ہو انہیں سینیٹائز کیا جاتا رہے گا مثلا دروازے کے ہینڈل، پانی کے نلکے، کرسیاں بار بار سینیٹائز کرنا ہوں گی۔حمام اور واش روم میں خود کار طریقے سے کام کرنے والے نل نصب کرنا ہوں گے۔گاہکوں کو ریستورانوں یا قہوہ خانوں میں منظم طریقے سے داخل کیا جائے گا. گاہکوں کے درمیان ڈیڑھ سے دو میٹر کا فاصلہ رکھنا ہوگا. دروازوں پر گاہکوں کی بھیڑ سے بچنے کے لیے خصوصی انتظام کرنا ہوگا. ایک ٹیبل پر چار افراد سے زیادہ کے بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوگی اس سے ایک فیملی کے افراد مستثنی ہوں گے۔ریستورانوں یا قہوہ خانوں میں آتے وقت گاہکوں کا درجہ حرارت لینا ہوگا. ایسے کسی بھی گاہک کو جس کا درجہ حرارت سب سے زیادہ ہو یا تنفس کے عارضے میں مبتلا ہو اسے ریستوران یا قہوہ خانے میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور یہی پابندی عملے پر بھی ہوگی۔ہوم ڈلیوری سروس کے عملے ہیلتھ سرٹیفکیٹ، شناختی کارڈ، حفاظتی ماسک کی پابندی کرنا ہوگی- روزانہ کی بنیاد پر درجہ حرارت جانچا جائے گا-ہوم ڈلیوری سروس میں استعمال ہونے والا سامان مسلسل سینیٹائز کیا جائے گا۔پارسل پر (ایس ای اے ایل) چسپاں کیا جائے گا۔پارسل اچھے طریقے سے پلاسٹک کوٹنگ کیا جائے گا۔تھوک و ریٹیل کی دکانوں اور تجارتی مراکز کے لیے بھی متعدد حفاظتی ضوابط جاری کیے گئے ہیں۔