ریاض۔ یکم نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ کو خواتین میں ریسلنگ کا مقابلہ ڈبلیو ڈبلیو ای کراؤن جیول شو کے تحت منعقد کیا جس میں خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ ریسلرز نیم بہنہ حالت میں مقابلہ کریں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ کھلاڑی مکمل لباس میں نظر آئیں۔تفصیلات کے مطابق مقابلہ دارالحکومت ریاض کے انٹرنیشنل کنگ فہد اسٹیڈیم میں انٹرنیشنل ریسلنگ آرگنائزیشن (ڈبلیو ڈبلیو ای) نے نتالیا اور لیسی ایونز کے درمیان کروایا۔ توقع کے عین مطابق نتالیا اور لیسی ایوانز پروقار لباس میں نظرآئیں۔عرب میڈیا کے مطابق ڈبلیو ڈبلیو ای سعودی وڑن 2030 کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مملکت سے 10سالہ معاہدہ کیے ہوئے ہے۔ سالانہ 80 ملین ڈالر سے زیادہ طے ہیں۔یہ مقابلہ ریاض سیزن کے تحت عمل میں آیا۔ 60 روزہ ریاض سیزن میں 100 سے زیادہ پروگرام ہورہے ہیں۔ 11اکتوبر سے 15دسمبر تک کھیل،آرٹ، تفریحات اور ثقافتی پروگرام کیے جارہے ہیں۔خواتین ریسلنگ امریکی بحریہ کی سابق فوجی لیسی ایونز اور ڈبلیو ڈبلیو ای کی چیمپیئن نتالیا کے درمیان ہوئی۔ یہ دونوں ریسلنگ کی دنیا میں بڑا نام کمائے ہوئے ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے ریاض میں پہلی خواتین ریسلنگ پر زبردست دلچسپی کا اظہار کیا۔ڈبلیو ڈبلیو ای کراؤن جیول شوکے ضمن میں سعودی ریسلر منصور، بروک کرنز، ہولک ہوگن سمیت دیگر ریسلرز کے درمیان بھی مقابلے ہورہے ہیں۔
