دوحہ ۔ 11مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل کے خلاف مزاحمتی تحریک چلانے والی تنظیم حماس سے تعلق رکھنے کے الزام میں سعودی عرب نے درجنوں فلسطینیوں پر دہشت گردی کے مقدمات دائر کردیئے ہیں۔یہ اطلاع قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘نے دی ہے ۔ الجزیرہ نے عرب ذرائع ابلاغ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ 68 لوگوں کے خلاف جن کا تعلق فلسطین اور اُردن سے ہے ، سعودی دارالحکومت میں قائم دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں مقدمات دائرکئے گئے ہیں۔حماس کی جانب سے جاری ایک بیان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حماس نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب میں فلسطینی شہریوں پرعائد الزامات کو جھوٹا اور ان کو حراست میں لئے جانے کوغیر منصفانہ گردانا ہے ۔متاثرین کے گھر والوں کا استدلال ہے کہ ان کے گرفتار اہل خانہ کو بغیر کسی قانونی معاونت کے مقدمات کا سامنا ہے ۔یہ گرفتاریاں سعودی عرب کی خفیہ پولیس نے گزشتہ برس اپریل میں کی تھیں۔میڈیا کے مطابق گرفتار شدگان میں طویل عرصے سے سعودی عرب میں مقیم ایک 81سالہ کینسر کا مشتبہ مریض بھی شامل ہے جس کا نام محمد الخضری بتایا گیا ہے ۔ان کے بیٹے سعودی عرب کی یونیورسٹی میں آئی ٹی کے پروفیسر ہانی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو بظاہرکسی سیاسی سرگرمی کا حصہ نہیں تھے ۔ مبینہ طور پر قید تنہائی میں رکھے جانے والے ان دونوں کی ممکنہ اگلی عدالتی پیشی 5 مئی کو ہوگی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک بیان کے حوالے سے خبر آئی ہے کہ باپ بیٹے کی گرفتاری سعودی عرب میں مقیم فلسطینیوں کیخلاف حماس سے مبینہ تعلق کے شبہ پر بڑے پیمانے پر کی جانے والی کارروائی کا حصہ ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ پچھلے سال فروری سے ابتک سعودی حکام نے کوئی 60 فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے ۔ یہ لوگ یا تو سعودی عرب میں ہی رہتے تھے یا دورے پر آئے ہوئے تھے ۔ ان میں طالب علم، تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ اور کاروبارکرنے والے سبھی شامل ہیں۔سعودی عرب میں موجودہ قیادت کے اقتدارمیں آنے سے پہلے تک کی حکومتوں کا عمومی رویہ فلسطینی کاز کے حق میں ہوا کرتا تھا۔
