کرفیو میں موجود ہ نرمی 29 رمضان تک جاری ، شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے ہدایت جاری
ریاض۔13 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) سعودی حکومت نے ملک بھر میں نئے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے اور اس سے بچنے کے لیے مقرر تمام حفاظتی اقدامات میں رمضان کے آخر تک توسیع کردی ہے۔کرفیو میں جاری نرمی 29 رمضان 22 مئی تک برقرار رہے گی جبکہ 30 رمضان سے 4 شوال تک سعودی عرب کے تمام علاقوں اور صوبوں میں مکمل کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ کے عہدیدار نے جاری بیان میں کہا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر وزارت داخلہ نے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ یکجہتی پیدا کرکے کرفیو کے حوالے سے نئے اقدامات کیے ہیں۔ صحت حکام کی سفارش پر نئے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔اول 21 رمضان جمعرات سے 29 رمضان جمعہ کے آخر تک 4 اقدامات طے کیے گئے ہیں۔ مستثنیٰ اقتصادی و تجارتی سرگرمیاں جوں کی توں برقرار رہیں گی۔ 25 اپریل کو جاری کردہ فیصلے میں جن اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی تھی وہ اسی طرح جاری رکھی جا سکیں گی البتہ مقررہ حفاظتی تدابیر کی پابندی ضروری ہوگی۔ دن کے وقت 8 گھنٹے ضروری کاموں سے گھروں سے نکلنے کی اجازت ہوگی۔ روزانہ صبح 9 بجے سے لے کر شام 5 بجے تک سعودی عرب کے تمام علاقوں اور شہرو ں میں مقامی باشندے اور مقیم غیرملکی گھروں سے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے نکل سکیں گے لیکن مکہ اس سہولت سے مستثنیٰ ہوگا۔
مقامی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ گھروں سے نکلتے وقت مقررہ حفاظتی تدابیر کا پوری طرح سے دھیان رکھیں۔ مکہ میں مکمل کرفیو برقرار رہے گا۔ مکمل لاک ڈاؤن والے محلوں، شہروں اورعلاقوں میں ا?نے جانے کی پابندی حسب سابق برقرار رہے گی۔دوم 30 رمضان ہفتے سے 4 شوال تک کے لیے دو پابندیاں لگائی گئی ہیں جو یہ ہیں۔ سعودی عرب کے تمام علاقوں اور شہروں میں مکمل کرفیو نافذ رہے گا۔ سماجی فاصلے کی مکمل پابندی کرنا ہوگی مثلاً 5 سے زیادہ افراد کسی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔خلاف ورزی پر وہی جرمانے اور سزائیں دی جائیں گی جو 7 مئی 2020 کو وزارت داخلہ نے مقرر کی تھیں۔وزارت داخلہ نے تمام لوگوں اور اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے صحت و سلامتی کے لیے مقرر تمام ہدایات کی مکمل پابندی کریں۔سماجی فاصلے کے ضوابط کا خیال کریں۔ کسی بھی شکل میں کسی بھی جگہ کسی بھی طرح کی تقریب یا اجتماع نہ کریں۔