ریاض 27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) کئی عالمی پالیسی ساز اور شعبہ تجارت کی اہم شخصیتیں سعودی عرب سرمایہ کاری چوٹی کانفرنس میں شرکت کریں گی جس کا آغاز منگل کے دن ہوگا۔ اِس طرح مملکت سعودی عرب کو قتل کے مقدمہ کی بنیاد پر تنقید کرنے والوں کی تنقید کم کرنے کا موقع ملے گا اور گزشتہ سال عالمی طاقتوں کی جانب سے شروع کردہ بائیکاٹ کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔ تین روزہ آئندہ سرمایہ کاری کی پہل کی پرزور اپیل جس کا نام ’’ڈاؤس اِن دا ڈیزرٹ‘‘ رکھا گیا ہے۔ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی شبیہہ بہتر بنائے گی جو جاریہ سال صحافی جمال خشوگی کے قتل کی بناء پر داغدار ہوگئی تھی۔ واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار کا قتل گزشتہ سال اکٹوبر میں مملکت سعودی عرب کے اشارہ پر استنبول کے قونصل خانہ میں ہوا تھا اور سب سے بڑے خام تیل پیدا کرنے والے ملک کو سنگین بحران کا سامنا اور کاروباری و سیاسی قائدین کو لمحہ آخر میں شہرت کی بلندیوں سے نیچے اُترنا پڑا تھا لیکن اِس چوٹی کانفرنس سے جس کا مقصد الگ تھلگ کی ہوئی مملکت سعودی عرب میں سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہوگا جبکہ سعودی عرب جاریہ سال روبوٹ تیار کرنے کے لئے آمادہ ہے جس پر عالمگیر سطح پر سعودی عرب کے خلاف برہمی پیدا ہوگئی ہے۔ اعلیٰ سطحی قائدین نے جو چوٹی کانفرنس میں شرکت کریں گے ، وزیراعظم ہندوستان نریندر اور صدر برازیل جیر بولسو نارو مہمانان خصوصی کی حیثیت سے اِس چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے آمادہ ہیں۔ وزیر خزانہ امریکہ اسٹیون منچن ایک اعلیٰ اختیاری امریکی وفد کی قیادت کرتے ہوئے چوٹی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔