صنعاء ۔ 2 جنوری (ایجنسیز) یمنی شوریٰ کونسل کی صدارتی باڈی نے آج سعودی عرب کے برادرانہ موقف اور قانونی آئینی حکومت کی حمایت میں اس کے ذمہ دارانہ کردار اور ملک کے مشرقی حصوں میں تناؤ پر قابو پانے کی کوشش کو قابل تعریف قرار دے دیا ہے۔ صدارتی باڈی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ کی منسوخی کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی عرب نے حضرموت اور المہرہ کے صوبوں میں حالیہ واقعات کے آغاز سے ہی یمنی حکومت کی تمام شخصیات اور بااثر فریقوں کے ساتھ انتھک کوششیں کیں جس کا مقصد حالات کو پرسکون کرنا اور امن و استحکام کو فروغ دینا تھا۔ریاض نے یمن کے مشرق میں جنوبی عبوری کونسل کی افواج کی فوجی کشیدگی کے تناظر میں کئی سخت اقدامات بھی کیے اور اس بات پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات یمن کے اس مطالبے پر جواب دے کہ وہ 24 گھنٹوں میں اپنی فوجی افواج یمنی سرزمین سے نکال لے اور ہر قسم کی مالی یا فوجی امداد بند کر دے۔ ریاض کی قیادت میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے المکلا بندرگاہ میں ایک فوجی امداد کو نشانہ بناتے ہوئے اس وقت حملہ بھی کیا جب اس نے دو ایسے بحری جہازوں کی نشاندہی کی جو اس طرح کے معاملات میں رائج طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یمنی حکومت یا اتحادی کمانڈ کے داخلے کے اجازت نامے کے بغیر بندرگاہ میں داخل ہوئے تھے۔شوریٰ کونسل کی صدارتی باڈی نے صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ کے فیصلوں اور قومی دفاعی کونسل کے فیصلوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ ان فیصلوں کا مقصد ریاست کے مقام اور اس کی اتھارٹی کا تحفظ، معاشرتی امن کی حفاظت اور آئینی و قانونی فریم ورک سے باہر طاقت کے ذریعے کسی بھی حقیقت کو مسلط کرنے سے روکنا ہے۔ شوریٰ کونسل نے حضرموت اور المہرہ سے عبوری کونسل کی افواج کے انخلاء اور کیمپوں کو ’’درع الوطن‘‘ افواج اور مقامی حکام کے حوالے کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔