سنٹرل حج کمیٹی کو کروڑہا روپئے کی آمدنی کی فکر، گزشتہ سال کے منتخب عازمین کے بارے میں تیقن نظرانداز
حیدرآباد: حج 2021 ء کے لئے حکومت سعودی عرب نے ابھی تک اپنی پالیسی کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن حج کمیٹی آف انڈیا نے آن لائین درخواستوں کے ادخال کا شیڈول جاری کردیا ۔ کورونا وباء کے پیش نظر گزشتہ سال حج بیت اللہ کو منسوخ کیا گیا تھا اور کئی ماہ تک عمرہ پر پابندی کے بعد گزشتہ دنوں محدود انداز میں عمرہ کی اجازت دی گئی ہے۔ حج 2021 ء کے سلسلہ میں کورونا وباء کے پیش نظر حکومت سعودی عرب کیا موقف اختیار کرے گی اور ہر ملک سے عازمین کی تعداد کے بارے میں کیا فیصلہ ہوگا ، اس کا اظہار ابھی باقی ہے ۔ ایسے میں حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے عجلت میں درخواستوں کی طلبی کے فیصلہ پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ کورونا کا اثر ہندوستان میں ابھی باقی ہے۔ ایسے میں حج کے خواہشمند افراد فریضہ حج کیلئے روانگی کے سلسلہ میں پس و پیش کر رہے ہیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا کو چاہئے تھا کہ وہ ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان حج معاہدہ کے بعد درخواستوں کو وصول کرتی۔ دونوں ممالک کے درمیان حج معاہدہ ابھی باقی ہے اور معاہدہ کے بعد اس بات کا پتہ چلے گا کہ ہندوستان سے کتنے عازمین کی اجازت رہے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ درخواستوں کی وصولی کے ذریعہ حج کمیٹی کو کروڑہا روپئے حاصل ہوتے ہیں اور اس رقم سے محرومی کے اندیشہ کے تحت درخواستوں کے ادخال کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ ہر درخواست گزار کو 300 روپئے ادا کرنے ہوتے ہیں جوکہ ناقابل واپسی رقم ہے۔ حج سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی حج کمیٹی آف انڈیا اور ریاستی حج کمیٹیوں کی آمدنی کا آغاز ہوجاتا ہے ۔ گزشتہ سال حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ ایک لاکھ 25 ہزار عازمین کا انتخاب کیا گیا تھا لیکن لمحہ آخر میں حج منسوخ کردیا گیا ۔ حج کمیٹی کے ایک لاکھ 25 ہزار کوٹہ کے لئے ملک بھر سے 3 تا 4 لاکھ درخواستیں داخل کی جاتی ہیں ۔ تین لاکھ درخواستوں کا اندازہ کریں تو درخواستوں کے ادخال سے حج کمیٹی آف انڈیا کو 9 کروڑ روپئے حاصل ہوئے۔ 300 روپئے میں سے 150 روپئے ریاستی حج کمیٹیوں کو سرویس چارجس کے طور پر ادا کئے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال اگر تین لاکھ درخواستیں موصول ہوئی تھیں تو ان سے حج کمیٹی آف انڈیا کو 4.5 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔ تلنگانہ میں 12,000 درخواستیں داخل کی گئی تھیں جن سے 36 لاکھ کی رقم حاصل ہوئی ، اس میں سے 18 لاکھ روپئے تلنگانہ حج کمیٹی کو ادا کئے گئے ۔ وزارت اقلیتی امور اور تلنگانہ حکومت کے ذمہ داروں نے اعلان کیا تھا کہ گزشتہ سال کے منتخب عازمین کو 2021 کے لئے منتخب قرار دیا جائے گا لیکن حج کمیٹی نے نئی درخواستیں طلب کرلی ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سال منتخب عازمین حج سے روانگی سے کئی ماہ قبل پہلی قسط کی رقم وصول کرلی جاتی ہے۔ گزشتہ سال ایک لاکھ 25 ہزار عازمین سے فی کس 81 ہزار کے حساب سے جملہ 101 کروڑ 25 لاکھ روپئے وصول ہوئے تھے ۔ اس رقم کو فکسڈ ڈپازٹ کرتے ہوئے اس کا سود حاصل کیا جاتا ہے ۔ گزشتہ سال پہلی قسط کی رقم اگرچہ واپس کردی گئی لیکن حج کمیٹی کو ڈپازٹ کے سود کے طور پر بھاری آمدنی ہوئی ۔ اب جبکہ پہلی قسط کے طور پر دیڑھ لاکھ روپئے ادا کرنے ہوں گے ، اس طرح حج کمیٹی آف انڈیا کی آمدنی میں مزید اضافہ ہوگا۔ ایک طرف درخواستوں کی فیس تو دوسری طرف فکسڈ ڈپازٹ کی رقم کا سود یہ دونوں حج کمیٹیوں کیلئے آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔ حج 2021 کے لئے جنوری میں قرعہ اندازی اور یکم مارچ تک پہلی قسط کی ادائیگی کا وقت مقرر کیا گیا ہے جبکہ جولائی سے عازمین کی روانگی کا آغاز ہوگا ۔ حج امور اور حج کمیٹیوں کی سرگرمیوں سے واقف افراد کا ماننا ہے کہ ہر سال حج درخواستوں اور پہلی قسط کے فکسڈ ڈپازٹ سے بھاری آمدنی حاصل ہوتی ہے، لہذا جاریہ سال بھی حج کمیٹی آمدنی سے محروم ہونا نہیں چاہتی ۔ لہذا سعودی عرب کے فیصلہ سے قبل ہی درخواستوں کی طلبی کا آغاز ہوچکا ہے۔