ریاض : سعودی عرب کے شہر نیوم میں برفانی سیرگاہ رتیار کی جارہی ہے۔یہ خلیج میں منفی درجہ حرارت والی پہلی برفانی تفریحی منزل اور بیرونِ خانہ سکی سیرگاہ ہو گی اور اب سعودی عرب کے پہاڑی منصوبے ٹروجینا جو مملکت کے 500 بلین ڈالر کے میگا پراجکٹ کا حصہ ہے۔پراجکٹ کے معماروں نے خصوصی طور پر میڈیا کو بتایا ہے کہ وہ میگا سٹی کے برف پوش ضلع میں کس طرح ایک وسیع سیرگاہ تعمیر کر رہے ہیں جس کی وسیع سائٹ پر ‘بڑا’ کام جاری ہے۔منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا ہے جس کے 7,000 مستقل رہائشی ہوں گے اور سالانہ 700,000 سے زائد سیاح اس کا رخ کیا کریں گے جو ایک ‘عمودی گاؤں’، ایک تفریحی کلسٹر’، شاپنگ، رات کی تفریحات، 100 سے زیادہ مختلف کھیلوں، تہواروں، موسیقی اور فیشن کی تقریبات کا مسکن ہوگا اور یقیناً موسمِ سرما کی ڈھلانوں پر بہت کچھ ہوگا۔ٹروجینا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فلپ گلیٹ نے میڈیاکو بتایا کہ ٹروجینا جو مملکت کے بلند ترین پہاڑی سلسلے تبوک میں واقع ہے کا جغرافیائی محلِ وقوع اور خنک موسم اس بات کو ممکن بناتا ہے کہ جی سی سی خطے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا اسکیئنگ کا تجربہ ہوگا۔ یہ مقام سعودی عرب کے جو نیوم شہرکے وسیع تر ماحولیاتی عزائم سے مطابقت رکھتا ہوگا۔ برف کی مستقل پیداوار، برف پگھلنے کی حکمت عملی اور بجلی کی ضروریات کوپورا کرنا وغیرہ جیسے اہم امور ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہم قابلِ تجدید توانائی استعمال کرتے ہیں، پانی کے استعمال کو کم سے کم اور بازیافت کو زیادہ سے زیادہ کرتے ہیں۔ ہم نیوم کے قابلِ تجدید بجلی گھر کا استعمال کرتے ہوئے برف کی مشینیں بھی چلائیں گے جو کاربن نیوٹرل ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نہیں کرتی۔