سعودی کابینہ کی ’’فلسطین اجلاس‘‘ کے فیصلوں کو مکمل حمایت

   

ریاض : سعودی کابینہ نے مصر میں ’’فلسطین اجلاس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے غیر معمولی عرب سربراہ اجلاس کے فیصلوں کیلئے مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ یہ موقف سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سامنے آیا۔ کابینہ اجلاس میں فلسطینی عوام کی ان کی سرزمین سے جبری ہجرت کو مسترد کر دیا گیا اور جنگ کے نتیجے میں سامنے آنے والے الم ناک محرکات کے خاتمے پر زور دیا گیا۔ کابینہ نے باور کرایا کہ فلسطینی عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے اور قانونی حقوق حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان میں 1967کی سرحدوں پر ایک خود مختار آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے جس کا دار الحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔ اسی سیاق میں سعودی کابینہ نے غزہ پٹی میں انسانی امداد کا داخلہ روکنے سے متعلق قابض اسرائیلی حکومت کے فیصلے کی مذمت کی۔ کابینہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری کرے، بین الاقوامی طور پر احتساب کو فعال بنائے اور امداد کی مستقل وصولی یقینی بنائے۔کابینہ کے اجلاس میں سعودی ولیعہد نے لبنانی صدر کے ریاض کے سرکاری دورے کے موقع پر ان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے نتائج سے آگاہ کیا۔ بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور مختلف شعبوں میں انھیں مضبوط بنانے کی صورتوں کا جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے سعودی عرب اور لبنان کے مشترکہ بیان میں شامل امور کی اہمیت باور کرائی۔ ان میں طائف معاہدے پر مکمل عمل درآمد، متعلقہ بین الاقوامی قرار دادیں، لبنان کی قومی فوج کا کردار اور لبنانی اراضی سے قابض اسرائیلی فوج کا انخلا شامل ہے۔
سعودی کابینہ نے ولیعہد کی صدارت میں… ریاستی امن کے سعودی ادارے اور عراق میں قومی انٹیلی جنس کے ادارے کے بیچ دہشت گردی کے جرائم اور ان کی فنڈنگ کے انسداد کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی۔درین اثنا، سعودی کابینہ نے سعودی عرب اور مصر کے درمیان متبادل سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور تحفظ سے متعلق سمجھوتے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے سعودی عرب اور عرب سائب سیکورٹی کی کابینہ کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کو منظور کیا۔