سعید آباد واقعہ کے ملزم کی خودکشی کی عدالتی تحقیقات کا حکم

   

تلنگانہ ہائی کورٹ کا فیصلہ، ورنگل میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کو چار ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت، مفاد عامہ کی درخواست پر کارروائی
حیدرآباد۔17 ۔ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے سعید آباد سنگارینی کالونی میں کمسن لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کے ملزم کی خودکشی معاملہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ عوامی حقوق کی تنظیم کے قائد اور جہد کار پروفیسر لکشمن نے مفاد عامہ کی درخواست دائر کرتے ہوئے خودکشی پر شبہات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی تحویل میں ملزم کی موت واقع ہوئی جسے خودکشی کا نام دیا جارہا ہے ۔ کارگزار چیف جسٹس ایم ایس رامچندر راؤ اور جسٹس ٹی امرناتھ گوڑ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے درخواست کی سماعت کی اور ملزم پی راجو کی مبینہ خودکشی کی عدالتی تحقیقات کی ذمہ داری تھرڈ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ ورنگل کو دی ہے۔ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ ورنگل خودکشی معاملہ کی جانچ کرتے ہوئے اندرون چار ہفتے رجسٹرار (جوڈیشل) ہائی کورٹ کو اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔ عدالت نے تھرڈ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ ورنگل کو تحقیقات کی ہدایت دی کیونکہ جس علاقہ میں خودکشی کی اطلاع دی گئی وہ مجسٹریٹ کے حدود میں آتا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ پولیس اور متوفی راجو کے ارکان خاندان کے علاوہ کوئی اور افراد اگر چاہیں تو خودکشی سے متعلق دستاویزی ثبوت اور اپنے بیان اندرون چار ہفتے مجسٹریٹ کے روبرو حاضر ہوکر پیش کرسکتے ہیں۔ مجسٹریٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ مہربند لفافہ میں اپنی رپورٹ پیش کریں۔ واضح رہے کہ کمسن لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کا اصل ملزم پی راجو فرار تھا جس کیلئے پولیس نے 10 لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان کیا تھا ۔ جمعرات کی صبح اسٹیشن گھن پور کے قریب پٹرویوں پر راجوکی مسخ شدہ نعش دستیاب ہوئی جس کی شناخت اس کے ہاتھ پر موجود ٹیٹو کے ذریعہ کی گئی ۔ راجو کے بائیں ہاتھ پر اس کی اہلیہ مونیکا کا نام تھا۔ نعش کا چہرہ ناقابل شناخت بن چکا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ راجو نے چلتی ٹرین کے آگے آکر خودکشی کرلی جبکہ بیوی اور دیگر ارکان خاندان کا الزام ہے کہ پولیس نے راجو کا قتل کر کے نعش کو پٹریوں پر پھینک دیا اور خودکشی قرار دیا جارہا ہے۔ راجو کی بیوی مونیکا کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں حراست میں رکھ کر سادہ کاغذات پر دستخط حاصل کرلئے ہیں۔ خودکشی کے مسئلہ پر مختلف گوشوں سے شبہات کے اظہار کے بعد جہد کار پروفیسر لکشمن نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ راجو کی موت پولیس کی تحویل میں ہوئی ہے ، لہذا اسے پولیس کی حراست میں موت تصور کیا جائے۔ کارگزار چیف جسٹس نے لنچ موشن پٹیشن کے طور پر مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے مجسٹریٹ کے ذریعہ عدالتی تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔ کمسن لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ کے بعد نہ صرف تلنگانہ بلکہ ملک کے دیگر علاقوں میں عوامی ناراضگی دیکھی گئی اور سیاسی قائدین اور فلمی شخصیتیں متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لئے پہنچ گئیں ۔ پولیس اور حکومت پر ملزم کے انکاونٹر کیلئے دباؤ بڑھنے لگا تھا ، تاہم پولیس نے ملزم کی خودکشی کا دعویٰ کیا ۔ ایک مرحلہ پر وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے ٹوئیٹر پر ملزم کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی بعد میں گرفتاری کی تردید کی گئی۔ عوامی حقوق کی تنظیموں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ راجو کو پولیس تحویل میں رکھ کر اذیتوں کے ذریعہ ہلاک کیا گیا اور نعش کو پٹریوں پر رکھ دیا گیا تاکہ خودکشی ثابت کی جاسکے ۔ پولیس نے حیدرآباد کے بجائے ورنگل میں ہی راجو کی آخری رسومات انجام دی۔ پولیس اور حکومت مطمئن تھے کہ راجو کی موت کے بعد یہ مسئلہ ختم ہوچکا ہے لیکن ہائی کورٹ کے فیصلہ نے دونوں کیلئے نئی الجھن پیدا کردی ہے ۔ واضح رہے کہ سائبر آباد علاقہ میں ایک خاتون کی عصمت ریزی اور قتل کے ملزمین کے انکاؤنٹر معاملہ کی تحقیقات سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ کمیٹی کر رہی ہے ۔ R