سعید بن عبدالرحمن باوزیر کے قاتل گرفتار

   

Ferty9 Clinic

4 ملزمین میں مجلس کا جل پلی میونسپل چیرمین بھی شامل
حیدرآباد : /16 اگست (سیاست نیوز) سماجی کارکن شیخ سعید بن عبدالرحمن باوزیر کے سنسنی خیز قتل میں پولیس نے بالآخر 4 خاطیوں بشمول مجلس کے جل پلی میونسپل چیرمین احمد سعدی ، عبداللہ سعدی کو بنڈلہ گوڑہ پولیس نے گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں دیدیا ۔ حالانکہ مقتول شیخ باوزیر نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مسلسل پولیس میں شکایتیں درج کرانے کی کوشش کرتا رہا اور ریاستی وزیر داخلہ کو فون پر اپنی جان بچانے کیلئے متعلقہ پولیس عہدیداروں کو ہدایت دینے کی درخواست کرتا رہا ۔ اگرچہ پولیس بروقت خاطیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں قانون کے تحت کی جانے والی کارروائی کے بارے میں آگاہ کیا ہوتا تو باوزیر کی جان بچ جاتی تھی ۔ ایسا معلوم ہوا ہے کہ شیخ باوزیر کے قتل کے بعد خاطیوں کے خلاف عوام کی برہمی میں اضافہ ہوگیا تھا اور اس کا ثبوت مقتول کا جلوس جنازہ ہے ۔ قتل کے بعد مقتول کے والد نے قاتلوں کی نشاندہی کروائی تھی اور عوام کی برہمی بڑھتی جارہی تھی ۔ اس ماحول کے پیش نظر حکومت نے اس معاملہ پر خفیہ رپورٹ انٹلیجنس سے حاصل کی جس میں ایجنسی نے یہ رائے ظاہر کی کہ حقیقی خاطیوں کو گرفتار نہ کرنے اور کیس میں لاپرواہی برتنے سے جاریہ سال ہونے والے انتخابات پر یہ قتل کیس اثر انداز ہوسکتا ہے ۔ اس رپورٹ کے بعد حکومت نے مقتول کے والد کی جانب سے ایف آئی آر میں درج کروائے گئے ناموں پر کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلہ میں 4 ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ۔ باوزیر قتل کیس میں ڈپٹی کمشنرپولیس ساؤتھ ایسٹ زون سی ایچ روپیش نے اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں یہ دعویٰ کیا کہ /11 اگست کو شیخ باوزیر کا قتل احمد بن حجب نے مقتول کے آنکھوں میں مرچ پاؤڈر چھڑک کر چاقو سے وار کرکے قتل کردیا تھا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقتول بھی چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن کا روڈی شیٹر تھا جس کے خلاف 9 مقدمات حیدرآباد اور رچہ کونڈہ پولیس کمشنریٹ حدود میں درج کئے گئے تھے جس میں 3 مقدمات پوکسو کے شامل ہیں ۔ ڈی سی پی نے پولیس کی ناکامی پر سوال کئے جانے پر یہ کہا کہ شیخ باوزیر کی شکایت ملنے پر تعزیرات ہند کی دفعہ 506 کے تحت مقدمہ درج کرنے کیلئے متعلقہ عدالت سے اجازت طلب کی گئی تھی چونکہ یہ معمولی نوعیت کا کیس ہے اور اس کیلئے مجسٹریٹ کی اجازت لازم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2021 ء میں شیخ باوزیر چنچل گوڑہ جیل میں ایک کیس میں عدالتی تحویل میں تھا جہاں پر احمد بن حجب کی ملاقات ہوئی جسے میرچوک پولیس نے ایک کیس میں گرفتار کیا تھا ۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ مقتول اور کلیدی ملزم دونوں بھی غیرفطری عمل میں شامل تھے ۔ اسی دوران شیخ باوزیر نے مجلس پارٹی کے جل پلی انچارج اور اس کے بیٹے جل پلی میونسپل چیرمین عبداللہ سعدی اور دیگر ارکان خاندان کے خلاف سوشل میڈیا پر بلدی مسائل کے بارے میں مسلسل ویڈیوز اپ لوڈ کررہا تھا جس کے نتیجہ میں احمد سعدی اور باوزیر کے درمیان مخاصمت چل رہی تھی ۔ احمد بن حجب اور شیخ باوزیر کے درمیان تعلقات کی اطلاع پر احمد سعدی نے باوزیر کا قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔ اور اس قتل کو حجب اور مقتول کے درمیان غیرفطری عمل قرار دینے کی کوشش کی ۔ اس قتل میں عمر سعدی نے کلیدی ملزم احمد بن حجب اور سعدی فیملی کو متعارف کرانے میں اہم رول ادا کیا اور احمد سعدی ، عبداللہ سعدی اور صالح سعدی نے شیخ باوزیر کا قتل کرنے پر حجب کو 13 لاکھ روپئے کی پیشکش کی ۔ منصوبہ کے تحت /10 اگست کی شب احمد بن حجب نے ایک لڑکے کو باوزیر کے پاس غیرفطری عمل کیلئے لے گیا تھا اور اسی بہانے اس کا قتل کردیا گیا ۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ باوزیر قتل کیس میں ملزمین کی گرفتاری کیلئے 8 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں اور اس کیس کے دو ملزمین صالح سعدی اور عمر سعدی ہنوز مفرور ہے ۔ جبکہ قتل میں مدد کرنے والے سلطان شاہی کے ساکن محمد ایوب خان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔