حج پالیسی 2026 کے لیے سعودی حکومت کے رہنمایانہ خطوط پر حج کمیٹی آف انڈیا کی تیاری
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔8۔ اگسٹ۔حکومت ہند کسی بھی طرح سے اپنے شہریوں پر بھاری بوجھ عائد کرنے کے اقدامات میں مصروف ہے۔ مرکزی حکومت برسوں سے عازمین حج سے وصول کی جانے والی رقومات اور ان کے لئے فراہم کی جانے والی سہولتوں کے سلسلہ میں بھاری تغلب کے الزاما ت کا سامنا کر رہی ہے ۔ حج کمیٹی آف انڈیا نے جو حج پالیسی 2026 تیار کی ہے اس میں کی گئی ترامیم کے بعد اب حج کے لئے روانہ ہونے والوں کے ساتھ ساتھ کسی وجہ سے اپنے سفر حج کو منسوخ کرنے والوں سے بھی کمائی حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ حج پالیسی 2026 میں سفر حج منسوخ کرنے والوں کے لئے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پالیسی میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ اگر کوئی عازم حج کی موت واقع ہونے کے سبب اس کا سفر حج منسوخ کیا جاسکتا ہے اور کسی کو اگر کوئی شدید عارضہ لاحق ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اس عاز حج کا بغیر کسی جرمانہ کے سفر منسوخ کرنے کی گنجائش ہے جبکہ مجموعی اعتبار سے اگر کسی اور وجہ کی بنیاد پر کوئی اپنا سفر حج منسوخ کرتا ہے تو اس کے لئے بھاری جرمانے عائد کئے جائیں گے۔ حج کمیٹی آف انڈیا نے حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہونے والے عازمین کے لئے حج پالیسی 2026میں کی جانے والی ترامیم کے لئے سعودی حکومت کی جانب سے متبدلہ رہنمایانہ خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ حج بیت اللہ کے لئے منتخب ہونے کے بعد اپنے سفر حج کو منسوخ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں حج کمیٹی آف انڈیا اس عازم حج سے بھاری جرمانہ وصول کرے گی۔ ذرائع کے مطابق حج بیت اللہ کے لئے درخواست داخل کرنے کے بعد منتخب ہونے والے عازمین حج میں سے اگر کوئی اپنا سفر حج منسوخ کرتا ہے تو ایسی صورت میں اسے 5000 روپئے تک جرمانہ اداکرنا پڑسکتا ہے اور اسی طرح ہر ماہ اس رقم میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور اگر کوئی لمحہ ٔ آخر میں اپنا سفر حج منسوخ کرتا ہے تو اسے جمع کی کئی گئی مکمل رقم سے محروم ہونا پڑے گا۔ حج کمیٹی آف انڈیا اس ترمیم اور جرمانہ کے سلسلہ میں یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے تبدیل کئے گئے رہنمایانہ خطوط کے سبب یہ اقدام کیاگیا ہے جبکہ ویزا کی اجرائی کے بعد اگر کوئی سفر حج منسوخ کرتا ہے تو اس سے ویزا کی فیس کی وصولی کا جواز ہوتا ہے لیکن حج کمیٹی آف انڈیا نے جو حج پالیسی میں منصوبہ بندی کی ہے اس کے مطابق ختم اگسٹ سے درخواستوں کی وصولی کا عمل مکمل کرلیا جائے گا اور 30 ستمبر سے قبل اگر کوئی عازم حج اپنے سفر کی منسوخی کا فیصلہ کرتا ہے تو اس پر 5ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ یکم اکٹوبر تا 15اکٹوبر کے درمیان اگر کوئی اپنا سفر حج منسوخ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ایسی صورت میں عازم حج کی جانب سے جمع کردہ رقم میں سے 10روپئے کی رقم بطور جرمانہ قرق کرلی جائے گی ۔16تا31 اکٹوبر کے دوران سفر حج منسوخ کرنے والوں سے 15 ہزار روپئے وصول کئے جائیں گے ۔ یکم تا 15 نومبر کے دوران سفر مقدس سے دستبرداری اختیار کرنے والوں کو 20ہزار روپئے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔16تا30 نومبر کے دوران اگر کوئی اپنا سفر منسوخ کرتے ہیں تو انہیں 25ہزار روپئے ادا کرنے ہوں گے ۔یکم ڈسمبر سے 15ڈسمبر کے دوران سفر مقدس سے دستبرداری اختیار کرنے والوں کو 30ہزار روپئے بطور جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور 16ڈسمبر تا31 ڈسمبر کے دوران سفر حج منسوخ کرنے والوں جمع کردہ رقم سے 35 ہزار روپئے وصول کرلئے جائیں گے اور یکم جنوری تا 15 جنوری 2026 کے دوران اگر کوئی اپنے سفر مقدس سے دستبرداری اختیار کرتے ہیں تو ان سے 50 ہزار روپئے وصول کئے جائیں گے۔16تا31جنوری کے دوران اگر کوئی اپنے سفر مقدس سے دستبرداری اختیار کرتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں اپنی جمع کردہ رقم میں سے 1لاکھ روپئے سے محروم ہونا پڑے گا جبکہ اگر کوئی 31جنوری کے بعد کسی وجہ سے اپنا سفر مقدس ملتوی یا منسوخ کرتا ہے تو ایسی صورت میں اس کی جانب سے جمع کردہ جملہ رقم قرق کرلی جائے گی۔حج کمیٹی کے عہدیداروں نے بتایاکہ اس پالیسی کی تیاری کے سلسلہ میں تمام ریاستی حج کمیٹیوں کے ذمہ داروں سے مشاورت کی گئی ہے جبکہ تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی نے تاحال اس سلسلہ میں کوئی وضاحت نہیں کی ہے اور نہ ہی حج بیت اللہ کے لئے درخواست داخل کرنے والوں کو اس سلسلہ میں واقف کروایا گیا ہے۔