سفید راشن گیرندوں کے کھاتوں میں رقم جمع ہونے کا ایس ایم ایس

   

بینکوں کے قریب عوام کی طویل قطاریں ، سماجی فاصلہ کی برقراری کے لیے پولیس کو مشکلات
حیدرآباد۔13اپریل(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے سفید راشن کارڈ گیرندوں کے کھاتوں میں 1500 روپئے جمع کئے جانے کی اطلاعات اور ایس ایم ایس کی وصولی کے ساتھ ہی بینک کے روبرو قطاروں میں اضافہ ہوگیا ہے اور بینکوں کے سامنے کرنسی تنسیخ کے موقع پر جس طرح کی قطاریں دیکھی جا رہی تھیں ویسی ہی قطاریں دیکھی جانے لگی ہیں۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے جو 1500 روپئے غریب شہریو ں کو جاری کرنے کا اعلان کیا گیا تھا وہ ان کے کھاتوں میں جمع کرنے کا عمل شروع کیا جاچکا ہے اور جیسے ہی انہیں 1500 روپئے جمع ہونے کی اطلاع موصول ہورہی ہے وہ بینک کا رخ کر رہے ہیں تاکہ حکومت کی جانب سے جمع کردہ رقومات کے حصول کے ذریعہ اپنی ضروریات کی تکمیل کرسکیں۔شہر حیدرآباد میں کئی بینکوں کے باہر طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں اور لوگ سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے کھڑے ہونے کے سبب قطاریں طویل ہوتی جارہی ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ بینکوں میں 1500 روپئے حاصل کرنے کے علاوہ وظائف کی رقومات نکالنے کیلئے بھی عوام کا اژدہام بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے بینک کاری میں مشکلات پیش آنے لگی ہیں۔بینکوں کے باہر طویل قطار میں کھڑے لوگوں میں بڑی تعداد کے پاس کوئی اے ٹی ایم یا ڈیبیٹ کارڈ نہ ہونے کے سبب بھی وہ بینک کے سامنے قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں ۔ریاستی حکومت کے اعلان کے مطابق ریاست کے سفید راشن کارڈ گیرندوں کو 1500 روپئے کی اجرائی کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی ریاست کے بیشتر بینکوں کے سامنے یہ صورتحال دیکھی جانے لگی ہے اور پرانے شہر میں بھی بینکو ںکے روبرو طویل قطاروں کو بہتر انداز میں سماجی فاصلہ کی برقراری کے ساتھ شہریو ںکو کھڑا کرنے میں پولیس کے عملہ کو دشواریو ںکا سامنا کرنا پڑرہا تھا اور بنک کے اندرونی حصہ میں بھی بہ ایک وقت5افراد سے زیادہ کو موجود رہنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جو کہ احکام کے مطابق ہے۔