سلاطین آصفیہ کی مذہبی روا داری جمہوری حکمرانوں کے لیے ایک درس

   

Ferty9 Clinic

نظامس میوزیم کے زیر اہتمام شیلا راج میموریل لکچر سے پروفیسر سلیمان صدیقی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 29 ۔ جولائی : ( پریس نوٹ) : دکنی سلاطین بہمنی سے آصف جاہی عہد تک مذہبی روا داری کے علمبردار تھے اور اس عمل سے انہوں نے رعایا کے دلوں کو مسخر کرلیا اور مذہبی روا داری کی ایسی مثالیں قائم کیں جو آج کے جمہوری حکمرانوں کے لیے ایک درس ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سلیمان صدیقی سابق وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی نے ایچ ای ایچ دی نظامس میوزیم کے زیر اہتمام منعقدہ ڈاکٹر شیلا راج میموریل لکچر میں کیا جو جناب سید سجاد شاہد ٹرسٹی نظامس جوبلی پویلین ٹرسٹ کی زیر صدارت سالار جنگ میوزیم کے نواب میر لائق علی خاں آڈیٹوریم میں آصف جاہ سابع کے عہد میں مذہبی روا داری ‘ کے زیر عنوان منعقد ہوا تھا ۔ جس میں ٹرسٹی صاحبزادی رشید النساء بیگم نبسی حضور نظام میر عثمان علی خاں بہادر بحیثیت مہمان اعزازی شریک تھیں ۔ پروفیسر سلیمان صدیقی نے اپنے خطاب میں دکن کے تمام مسلم حکمرانوں کی مذہبی روا داری کا اجمالی جائزہ لیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان حکمرانوں نے سروں پر نہیں بلکہ دلوں پر حکمرانی کی ۔ ان حکمرانوں نے نہ صرف ان کی زبانوں کی سرپرستی کی بلکہ تہذیب ، تمدن اور مذہبی روایات کا احترام کیا ۔ آصف جاہ سادس نواب میر محبوب علی پاشاہ اور حضور نظام میر عثمان علی خاں کے عہد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے عہد افضل الدولہ بہادر میں یہاں غیر انسانی عمل ستی کو موقوف کیا گیا ۔ آخری دونوں حکمرانوں نے تمام مذاہب ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی اور لنگایتوں کے مذہبی مقامات کے لیے اپنے خزانوں کے دروازے کھولدئیے ۔ اور ان کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ امور مذہبی تشکیل دے کر ایک صدر المہام ( وزیر ) کے تحت اس کے امور منتقل کئے ۔ جہاں مسلم حجاج کو تین ماہ کی تنخواہیں اور خصوصی رخصت عطا کی جاتی وہیں جاتراوں اور زیارتوں کو جانے والے غیر مسلموں کو بھی خصوصی رخصت کے ساتھ ساتھ پیشگی تنخواہیں ایصال کی جاتی تھیں ۔ تمام مذاہب کی بڑی عبادت گاہوں کے لیے جاگیرات کے علاوہ خصوصی عطیات مقرر کئے ۔ یہی نہیں بلکہ منادر کے لیے نورتن جواہرات سے مرصع سونے چاندی کے زیورات بھی ایصال کئے ۔ پروفیسر سلیمان صدیقی نے اپنے لکچر کے دوران پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ فرامین اور تصاویر کے عکس کے شواہد دکھاتے ہوئے سامعین کو مطمئن کیا ۔ انہوں نے کہا کہ غارہائے ایلورہ اجنتہ کی ترمیم و آرائش بھی آصف جاہ سابع کا کارنامہ ہے ۔ جس کی بین الاقوامی سطح پر ستائش کی گئی ۔ جناب سجاد شاہد نے خطبہ صدارت میں سلاطین آصفیہ کی مذہبی روا داری کو خراج تحسین پیش کیا ۔ محترمہ رفعت حسین اعزازی سکریٹری نظامس جوبلی پویلین ٹرسٹ کی زیر نگرانی منعقدہ اس جلسہ میں جناب احمد علی کیوریٹر نظامس میوزیم نے خیر مقدمی تقریر میں ڈاکٹر شیلا راج کی آصف جاہی سلاطین پر کی گئی تحقیق پر روشنی ڈالی ۔ آخر میں کلمات تشکر پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شمع پروین ڈپٹی ڈائرکٹر نے کہا کہ گو کہ ڈاکٹر شیلا راج کو گذرے ہوئے دس برس ہوچکے ہیں لیکن سلاطین آصف جاہی کی تاریخ اور ان کی مذہبی روا داری کو فروغ دینے کا مشن ابھی بھی جاری ہے ۔ چنانچہ حکومت تلنگانہ نے بورڈ آف انٹر میڈیٹ کے نصاب میں ’ آصف سابع کی مذہبی روا داری ‘ کے عنوان سے ان کے مضمون کو شامل کیا ہے ۔۔