سلامتی کونسل میں شام کیلئے روسی منصوبہ مسترد

   

Ferty9 Clinic

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے اراکین نے شام میں باغیوں کے گڑھ میں واقع سرحدی گزرگاہوں سے ہوکر انسانی امداد پہنچانے کے حوالے سے روس کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کے مسودے کو چہارشنبہ کے روز کثرت رائے سے مسترد کردیا۔روس نے صرف ایک گزرگاہ کھلا رکھنے کی تجویز پیش کی تھی۔ دوسری طرف جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے روس پر شام میں انسانی بحران کو مزید ابتر بنانے کا الزام لگایا ہے۔روس جنگ زدہ شام میں امدادی ساز وسامان پہنچانے کے لیے سرحدی گزرگاہوں کی تعداد کم کرانا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے اس نے سلامتی کونسل میں ایک قرار داد پیش کی تھی لیکن اس تجویز کی حق میں صرف چار ووٹ حاصل ہوئے۔ روس چاہتا ہے کہ ترکی اور شمال مغربی شام کے درمیان واقع جن دو سرحدی گزرگاہوں کے ذریعہ امدادی سامان جنگ زدہ علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے ان کی تعداد کم کرکے صرف ایک کردی جائے۔روس کی طرف سے چہارشنبہ کے روز پیش کردہ قرارداد کو منظوری کے لیے 15رکنی سلامتی کونسل کے کم از کم 9 اراکین کی منظوری ضروری تھی لیکن ماسکو کو صر ف چین، ویت نام اور جنوبی افریقہ کی تائید حاصل ہوسکی۔ سات دیگر ممالک بشمول جرمنی، فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے اس کے خلاف ووٹ دیا جبکہ چار اراکین غیر حاضر رہے۔فی الوقت اقوام متحدہ کی طرف سے شام میں امدادی سامان باغیوں کے قبضے والے شمالی حلب کے شمال مغربی میں واقع باب السلام اور ادلب صوبہ میں باب الہوا کے راستے سے پہنچا یا جاتا ہے۔ یہ دونوں سرحدی گزرگاہیں شامی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔سلامتی کونسل ہی کی ایک قرارداد کے تحت 2014 سے ہی جنگ زدہ شام میں رہنے والے لاکھوں شامیوں تک تمام ضروری امدادی اشیاء انہی گزرگاہوں کے ذریعہ پہنچائی جارہی ہیں۔ تاہم، 10جولائی کو یہ قرارداد اپنی مدت پوری کر لے گی۔