امریکی قرارداد کو چین اور روس نے ویٹو کردیا تھاجوشہریوں کو تحفظ اور انسانی امداد کیلئے پیش کی گئی تھی
نیویارک : سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی امریکی قرارداد روس اور چین نے ویٹو کر دی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعہ کے روز غزہ میں فوری جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کے معاہدہ سے متعلق امریکی قرارداد روس اور چین کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے باعث منظور نہیں ہو سکی۔ اس قرارداد میں، تقریباً چھ ہفتوں کے لیے فوری اور ٹھوس جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا جو شہریوں کو تحفظ فراہم کر سکے اور انسانی امداد لانے کی اجازت دے سکے۔ گیانا نے اس قرار داد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یہ قرارداد اسرائیل کے بارے میں واشنگٹن کے موقف میں مزید سختی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس سے قبل جنگ کے دوران پانچ ماہ تک امریکہ جنگ بندی کے لفظ کے خلاف تھا اور اس نے ایسے اقدامات کو ویٹو کر دیا گیا تھا جن میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے سلامتی کونسل میں کہا کہ کونسل کی اکثریت نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، لیکن بدقسمتی سے روس اور چین نے اپنا ویٹو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ووٹنگ سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ سلامتی کونسل کے لیے اس قرارداد کو منظور نہ کرنا ایک تاریخی غلطی ہو گی۔ اقوام متحدہ میں روس کے سفیر ویسلی نبینزیا نے بھی ووٹنگ سے پہلے تقریر کی جس میں انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان سے قرار داد کے حق میں ووٹ نہ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد ’انتہائی سیاسی‘ ہے اور اس میں اسرائیل کے لیے غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے میں واقع شہر رفح میں فوجی آپریشن شروع کرنے کے لیے ایک مؤثر چھوٹ موجود ہے، جہاں غزہ کے 23 لاکھ باشندوں میں سے نصف سے زیادہ شمالی علاقہ میں اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے عارضی خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ نیبنزیا نے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی منظوری سے اسرائیل کو کھلی چھوٹ مل جائے گی، جس کے نتیجے میں پورے غزہ اور اس کی تمام آبادی کو تباہی اور بربادی یا بے دخلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے متعدد غیر مستقل ارکان نے ایک متبادل قرارداد کا مسودہ تیار کیا ہے، جسے روسی سفیر نے ایک متوازن دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ارکان کے لیے اس مسودے کی حمایت نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اقوام متحدہ میں چین کے سفیر نے کہا کہ بیجنگ نے بھی متبادل قرارداد کی حمایت کی ہے۔ لیکن امریکی تھامس گرین فیلڈ کا متبادل قرار داد کے متعلق کہنا تھا کہ وہ توقعات پر پوری نہیں اترتی۔
متبادل قرار داد کے مسودے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنی موجودہ شکل میں یہ متن خطہ میں حساس سفارت کاری کی حمایت کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے اور اس سے بھی بدتر یہ ہے کہ یہ مسودہ حماس کو میز پر موجود معاہدہ سے الگ ہونے کا بہانہ فراہم کر سکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے جمعرات کو کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ قطر میں ہونے والی بات چیت، جو چھ ہفتہ کی جنگ بندی، 40 اسرائیلی یرغمالوں اور جیلوں میں بند سینکڑوں فلسطینیوں کی رہائی پر مرکوز ہے۔
امریکی قرارداد میں جنگ بندی پر امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کی حمایت کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل۔حماس جنگ میں ‘‘فوری’’ جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے ایک نئے متن پر ووٹنگ پیر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ امریکہ جو کہ اسرائیل کا اہم اتحادی اور فوجی حمایتی ہے نے ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں ‘‘فوری اور پائیدار جنگ بندی کی ضرورت’’ کا ذکر کیا گیا تھا اور حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کی مذمت کی گئی تھی۔