سلطان بازار میں تعمیر کردہ کمرشیل کامپلکس ویران و کھنڈر میں تبدیل

   

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن خواب غفلت میں ، کوڑا کرکٹ کا انبار
حیدرآباد ۔ 4 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : صحت و صفائی کے تعلق سے شہریوں کو ترغیب دینے والے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے لیے سلطان بازار کمرشیل کامپلکس بلدی حکام کی دلچسپی کا آئنہ ثابت ہورہا ہے ۔ شہریوں کو صفائی کے متعلق بڑے بڑے لکچر دینے اور کچرا سڑکوں پر پھینکنے کے خلاف چالانات اور کارروائی کرنے والی بلدیہ کو چاہئے کہ وہ ایک مرتبہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ شہر کے درمیانی علاقہ میں واقع ایک مصروف ترین علاقہ میں شمار ہونے والے اس تجارتی علاقہ سلطان بازار میں کمرشیل کامپلکس کو بلدیہ نے لاوارث بنادیا ۔ اس کامپلکس میں عدم صفائی کے سبب نو تعمیر شدہ یہ کامپلکس ویران کھنڈر میں تبدیل ہوتا جارہا ہے ۔ کامپلکس میں موجودہ تجارتی اداروں دوکانات کی جانب سے کچرا من مانی انداز میں پھینکا جارہا ہے ۔ تاہم اس کی صفائی کا یہاں کوئی نظم نہیں ۔ اس کامپلکس کی ٹھیک طرح سے دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب رات کے اوقات یہ کامپلکس شرابیوں کے لیے ایک ٹھکانہ اور مئے نوشی کا ایک بہترین اڈہ بن گیا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اس کامپلکس میں غیر مجاز پارکنگ بھی جاری ہے ۔ اس کامپلکس کے قریب سی بی آئی کا دفتر اور مرکزی محکموں کے دفاتر کے مرکز کیندریہ سدن کے باوجود اس طرح کی بلدی لاپرواہی تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے ۔ سال 2005 میں کروڑہا روپیوں کی لاگت سے سلطان بازار جی ایچ ایم سی کمرشیل کامپلکس کو تعمیر کیا گیا ۔ اس وقت مقامی فٹ پاتھ پر اپنی دوکانات سے دستبردار ہونے والے کتب کے تاجروں اور دیگر کاروباری افراد کے لیے کامپلکس کے سیلر کے علاوہ تیسری منزل تک دوکانات مختص کئے گئے ۔ ان میں 80 افراد نے چھوٹے چھوٹے شٹرس تعمیر کرتے ہوئے بک اسٹالس کا کاروبار شروع کیا ۔ مین روڈ سے کامپلکس کی دوری آدھے سے زائد دوکانات کے بند ہونے کا اہم سبب تصور کی جارہی ہے ۔ گراونڈ اور پہلی منزل پر بک اسٹالس اور دوسری منزل پر پنٹنگ ادارہ اور تیسری منزل پر آروگیہ شری ہیلت کیر ٹرسٹ کا دفتر چلایا جارہا ہے ۔ لیکن عدم صفائی صحت اور کامپلکس کی ساکھ کے لیے خطرہ بن گئی ہے ۔ بلدی عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے شہر کی صفائی کے تعلق پہلے خود عملی اقدامات کو انجام دیں ۔۔ ع