سلطان پور کی عدالت سے راہول گاندھی کو ضمانت

   

لکھنو:سلطان پور کی ایک خصوصی عدالت نے منگل کو کانگریس لیڈر راہول گاندھی کو 2018 کے ہتک عزت کے مقدمے میں ضمانت دے دی۔یہ مقدمہ 4 اگست 2018 کو وجے مشرا کی طرف سے شروع کیا گیا تھا۔ کرناٹک انتخابات کے دوران، اسی سال 8 مئی کو بنگلورو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف راہول گاندھی کے مبینہ طور پر کیے گئے ریمارکس سے یہ تنازعہ شروع ہوا تھا۔شکایت کنندہ نے راہول گاندھی کے اس بیان کا حوالہ دیا جس کے دوران انہوں نے زور دے کر کہا کہ بی جے پی ایماندار اور صاف ستھری سیاست کے عزم کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن اس کی قیادت پارٹی کے ایک صدر کرتے ہیں جو قتل کے ایک مقدمے میں ملزم ہے۔ اس تبصرے کے وقت امیت شاہ بی جے پی کے صدر تھے۔ایڈوکیٹ سنتوش پانڈے نے میڈیاکو بتایا کہ راہول گاندھی نے آج عدالت میں خودسپردگی کی۔ اس کے بعد ان کی ضمانت کی درخواست جمع کرائی گئی اور اسے قبول کر لیا گیا۔ راہول کے وکیل نے کہا کہ وہ بے قصور ہیں اور انہوں نے کوئی ہتک آمیز بیان نہیں دیا ہے۔تاہم گاندھی کے تبصرے سے تقریباً چار سال قبل ممبئی کی ایک خصوصی سی بی آئی عدالت نے شاہ کو 2005 کے فرضی انکاؤنٹر کیس میں الزامات سے بری کر دیا تھا۔

جمہوریت کے قتل کی سازش
انل مسیح محض مہرا، مودی اصل چہرہ راہول گاندھی کا ریمارک
نئی دہلی : چنڈی گڑھ میئر الیکشن میں دھاندلی کیخلاف سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پر راہول گاندھی نے وزیر اعظم مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انھوں نے ایکس پر اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ بی جے پی کے ذریعہ جمہوریت کے قتل کی سازش میں انل مسیح صرف مہرا ہے، پیچھے مودی کا چہرہ ہے۔دراصل سپریم کورٹ نے آج ریٹرننگ افسر کے ذریعہ بی جے پی امیدوار کو کامیاب قرار دیے جانے کو خارج کرتے ہوئے عآپ کونسلر کلدیپ کمار کے چنڈی گڑھ میونسپل کارپوریشن کے میئر منتخب ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد عآپ اور کانگریس کے سرکردہ لیڈران کی جانب سے بی جے پی اور اس کی اعلیٰ قیادت کو لگاتار نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے قائدین نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو جمہوریت کی فتح قرار دیا۔