سلطنت آصفیہ کا دور تاریخی ، ہندو مسلم اتحاد کی مثال

   

ماہنامہ تاریخ دکن کا رسم اجراء ، وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی و دیگر کا خطاب

حیدرآباد /5 ستمبر ( راست ) وزیر داخلہ تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے آج میگزین تاریخ دکن کے خصوصی شمارہ ’’ آزادی ہند نمبر ‘‘ کی رسم اجرائی انجام دی ۔ ڈاکٹر سید حبیب امام قادری ایڈیٹر تاریخ دکن نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا ۔ رسم اجرائی کی تقریب اردو مسکن خلوت میں منعقد ہوئی ۔ جناب محمد محمود علی نے حضور نظام کے دور میں جو ترقیاتی کام بلالحاظ مذہب و ملت انجام پائے اور وہیں غیر مسلم کی عبادت گاہوں کو مالی امداد دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے وزیر اعلی جناب کے چندر شیکھر راؤ ان کی کارکردگی سے بہ خوبی واقف ہیں وہ ا کثر کہا کرتے ہیں کہ ان کے دور میں رعایا خوشحال زندگی بسر کی ۔ انہو ںنے کہا کہ سلطنت آصفیہ کا دور جو ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے زوال پذیر ہوا جبکہ اس دور میں ہندو مسلم اتحاد کا زور و شور تھا ۔ انہوں نے اردو زبان کی ترقی اور اس کے فروغ میں ریاستی حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ اپنے اندر اخلاق و کردار پیدا کریں ۔ انہوں نے ان دنوں قلم اور صحافت کے رشتہ کو بتاتے ہوئے کہا کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی اسی کے ذریعہ ہر میدان میں مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ نواب نجف علی خان جو نے کہا کہ میر عثمان علی خان بہادر سقوط حیدرآباد میں جو کردار ادا کیا ہے اسے رہتی دنیا تک یاد کیا جائے گا ۔ افسوس کہ ان دونوں نئی نسل آپ کے کارناموں اور تاریخ سے واقف نہیں ہے ۔ نئی نسل کو اردو زبان جس میں عثمانی تہذیب و تمدن کے ساتھ تاریخ دکن کا ذخیرہ موجود ہے نصاب میں شامل کیا جائے۔ مولانا سید شاہ فضل اللہ قادری الموسوی سجادہ نشین درگاہ حضرت موسی قادریؒ نے کہا کہ جب کبھی مسلمانوں نے اپنی محنت سے تاریخ بنائی اس کو مٹانے کی باطل طاقتوں نے کوشش کی لیکن تاریخ دکن ایک ایسی تاریخ ہے جس کو کبھی اور کسی قیمت پر مٹایا نہیں جاسکتا ۔ ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز ایڈیٹر گواہ ، مولانا شجاع الدین افتخاری ، ڈاکٹر م ق سلیم ، قاری سید صدیق حسین ، ڈاکٹر محامدعلی ، جناب نعیم الدین غوری ، ڈاکٹر محمد خواجہ مخدوم محی الدین ، جناب سید حیدر علی رضوی ، جناب عبدالحامد منان ، ڈاکٹر حامد بلال ، ڈاکٹر ساجد علی ، جناب محسن خان نے بھی مخاطب کیا ۔