تیسری جنگ عظیم کے بادل ایکبار پھر منڈلانے لگے ۔ ہم نے دنیا کا ایک نمبر دہشت گرد ہلاک کر دیا: امریکی صدر
پیرس ۔4جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) عالمی طاقتوں کی جانب سے جو بیانات آرہے ہیں وہ یقینا نہ صرف مسلمانوں کیلئے بلکہ دُنیا کے ہر اُس انسان کے لئے دل دہلادینے والے ہیں جو امن کی خواہش رکھتے ہیں ۔ امریکہ نے جب تین روز قبل ایران کے اعلیٰ سطحی جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا اُس وقت سے اب حالات مزید خطرناک ہوگئے ہیں۔ برطانیہ اور جرمنی کی جانب سے جاری کئے گئے بیانات پر اگر غور و خوض کیا جائے تو اُن کا یہی کہنا ہے کہ قاسم سلیمانی کو امریکہ نے ٹارگٹ بناکر جس طرح ہلاک کیا ہے اُس کا کسی حد تک ایران ہی ذمہ دار ہے اور سلیمانی کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ چین ، روس اور فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک ہیں، نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت بغداد ایرپورٹ کے قریب ہلاکت کا کوئی سنجیدہ نوٹ نہیں لیا ہے ۔ دوسری طرف امریکہ نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سلیمانی عراق میں موجود امریکی سفارتکاروں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنارہا تھا ۔ دوسری طرف سلیمانی کی موت کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس نے حکومتوں کے علاوہ عام آدمی کو بھی پریشان کررکھا ہے جس کے بعد پھر ایک بار یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ جنگ دو ممالک کے درمیان ہوتی ہے اور اُس میں سے کسی ایک کی جیت اور کسی ایک کی ہار ہوتی ہے لیکن جنگ کا خمیازہ جیتنے اور ہارنے والی دونوں حکومتوں کی عوام کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ شاید اسی لئے ساحرؔ لدھیانوی نے کہا تھا ؎
خدائے برتر تیری زمیں پر زمیں کی خاطر یہ جنگ کیوں ہے
جنھیں ہوس ہے جہان بھر کی اُنہی کا دل اتنا تنگ کیوں ہے
سلیمانی کی ہلاکت کے بعد مختلف ممالک کی جانب سے بیانات دیئے جانے کی ’رسم ‘ شروع ہوچکی ہے جن میں روس کا یہ کہنا ہے کہ اس کیلئے امریکہ کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اس نوعیت کے اقدامات سے مشرق وسطیٰ میں پائے جانے والے بحران کی یکسوئی نہیں کی جاسکتی بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ سلیمانی کی ہلاکت سے عالمی سطح پر حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں ۔ ایران نے امریکہ کو انتباہ دیدیا ہے کہ وہ انتقامی کارروائی کے لئے تیار رہے جس سے ایکبار پھر تیسری جنگ عظیم کے بادل منڈلاتے نظر آرہے ہیں ۔ دوسری جانب بغداد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے قریب امریکی حملے میں سلیمانی کی ہلاکت کی امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے تصدیق کے بعد صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ ’مار آ لاگو‘ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے پہلی مرتبہ بات کرتے ہوئے کہا: ’’ان کا ملک دنیا کے سرکردہ دہشت گرد قاسم سلیمانی کا صفایہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ذاتی طور پر پاسداران انقلاب کی ایلیٹ القدس فورس کے سربراہ کو ہلاک کرنے کا حکم دیا۔ امریکہ کے پاس ایسے منصوبوں اور اہداف کی لمبی فہرست جسے وہ (قاسم سلیمانی) کسی بھی وقت روبعمل لا سکتا تھا۔انھوں نے کہا کہ وہ جنگ شروع نہیں بلکہ روکنا چاہتے ہیں۔ امریکہ، ایرانی عوام کا قدر دان ہے۔ ہم ایرانی حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں ایران کی حکومت کے جارحانہ اقدامات، خصوصا اپنے ہمسایہ ملکوں کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی جنگجووں کا استعمال، اب ختم ہونا چاہئے۔صدر ٹرمپ نے قاسم سلیمانی کو ہزاروں امریکی، عراقی اور ایرانی شہریوں کی اموات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سلیمانی کو بہت پہلے قتل کردینا چاہیے تھا کیونکہ انھوں نے ’معصوم شہریوں کی ہلاکت کو اپنا مریضانہ جنون بنا لیا تھا‘۔ جنرل سلیمانی دہشت گردی کا ایک ایسا نیٹ ورک چلانے کے ذمہ دار تھے، جس کی رسائی مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکہ تک تھی۔
سلیمانی کو 11700 کلو میٹر فاصلے سے داغے گئے میزائلوں سے نشانہ بنایا
لندن ۔4جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) دنیا کے کروڑوں لوگ یہ جانتے ہیں کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بغداد کے ہوائی اڈے کے نزدیک دو گاڑیوں میں سوار قاسم سلیمانی اور اس کے دیگر ساتھیوں کو کس طرح ہلاک کیا گیا، تاہم یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ سلیمانی کو نشانہ بنانے والے دو میزائل درحقیقت MQ-9A Reaper ماڈل کے ڈرون طیاروں میں نصب تھے۔ یہ دونوں میزائل حملے کے مقام سے 11000 کلو میٹر دور ’’العدید‘‘ کے امریکی اڈے سے داغے گئے تھے۔ ان میں سے ایک میزائل نےToyota SAU ماڈل کی گاڑی کے پرخچے اڑا دیے اور اس میں سوار افراد کی نعشوںکے ٹکڑے سڑک پر بکھر گئے۔ مقامی وقت کے مطابق امریکہ میں جمعرات کی دوپہر کے 2:30 بج رہے تھے۔جس اہلکار کو سلیمانی کے قتل کی ذمے داری سونپی گئی تھی اس نے ٹی وی اسکرین کی معاونت سے اپنا مشن پورا کیا۔ مذکورہ قاتل نے اس مشین کا بٹن دبایا جس نے ڈرون طیارے کو اڈے سے اڑان بھرنے کا حکم جاری کیا۔ اس طرح دونوں گاڑیوں میں سے ہر ایک کو لیزر یا ریڈار گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس میزائل کی قیمت 1.17 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔
