’سماجی انصاف: آگے کا راستہ‘ پراسٹالن کی آج دہلی میں کانفرنس

   

کئی وزراء اعلی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے قائدین مدعو،اپوزیشن کو متحد کرنے کی مساعی

چینائی : چیف منسٹرٹاملناڈو ایم کے اسٹالن پیر کو دہلی میں ’سماجی انصاف: آگے کا راستہ‘ کے عنوان پر ایک سمیلن کی صدارت کریں گے۔ یہ سمیلن 2022 میں اسٹالن کے ذریعہ قائم کردہ آل انڈیا سوشل جسٹس فورم کے ذریعہ منعقد کی جا رہی ہے۔ سمیلن میں کئی اپوزیشن جماعتوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ ڈی ایم کے ذرائع نے بتایا کہ سمیلن میں تقریباً 20 پارٹیوں کے قائدین کی شرکت متوقع ہے۔ جن لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے ان میں راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو بھی شامل ہیں۔یہ پروگرام آن لائن بھی منعقد کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ اس سمیلن میں قومی سطح پر ذات پات کی مردم شماری کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا جائے گا، جو کہ اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے درمیان تنازعہ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کئی وزرائے اعلیٰ کے علاوہ بی آر ایس، ترنمول کانگریس، عآپ اور این سی پی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے میٹنگ میں اپنے نمائندے بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔حالانکہ، ڈی ایم کے ذرائع نے کہا کہ یہ ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم ہوگا تاکہ لوگوں کو ایک مشترکہ مسئلہ پر متحد کیا جا سکے۔ حال ہی میں، ڈی ایم کے نے راہول گاندھی کی سزا کے خلاف سخت بیان جاری کیا اور اڈانی معاملے پر جے پی سی کا مطالبہ کرنے میں سب سے آگے رہی ہے۔ ہتک عزت کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر اسٹالن نے کہا کہ ابھی ہائی کورٹ میں اپیل باقی ہے، انہوں نے راہول گاندھی کو نااہل قرار دینے میں کی گئی جلد بازی پر بھی سوال اٹھایا۔اسٹالن نے کہا کہ صرف سپریم کورٹ کو حتمی فیصلہ دینا چاہیے۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی ضلع عدالت کے فیصلے کے ایک دن کے اندر راہول گاندھی کو نااہل قرار دینے کے موقع کا انتظار کر رہی تھی۔ چیف منسٹر ایم کے اسٹالنٰ نے گزشتہ ہفتے منظر عام پر آنے والے واقعات کو لے کر مرکز کی بی جے پی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔