جنوبی ہند میں مائیکرو فینانس اور تعلیم کی طرز پر کام کیا جائے گا، سہیوگ کے افتتاح پر سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کا خطاب
نئی دہلی : سماج میں معاشی طور پرکمزور طبقہ کو خود روزگار اور خود کفیل بنانے کے مقصد سے سہیوگ اربن تھرفٹ اینڈ کریڈٹ کوآپریٹیو سوسائٹی لمٹیڈ کا آج ملی ماڈل اسکول، نئی دہلی کے احاطے میں افتتاح ہوا۔ جس میں متعدد شخصیتوں نے اپنے خیالات کا اطہار کیا۔ سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے سہیوگ کے افتتاح کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ جس طرح جنوبی ہندوستان میں مائیکرو فائننس اور تعلیم کے تعلق سے سے کام ہوا ہے ۔ اسی طرح جب ہماری حکومت تھی اس دوران کوشش کی گئی تھی کہ اسی پیٹرن کو اپناتے ہوئے شمالی ہندوستان میں بھی مائیکرو فائننس اور تعلیم کے سلسلے میں کام کیا جائے ۔ لیکن کچھ غفلت کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔ لیکن اب مجھے سہیوگ تھرفٹ سوسائٹی کے افتتاحی پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے اس دیرینہ خواہش کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر خوشی ہورہی ہے ۔ سہیوگ اربن تھرفٹ اینڈ کریڈٹ کوآپریٹیو سوسائٹی لمٹیڈ کے صدر شمس الضحی نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ میری تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئی ہے اور اس علاقے میں تین عشروں سے زیادہ عرصے سے مقیم ہوں اس لئے میں اصل میں کہاں کا ہوں اب یہ بے معنی ہے میں اب اسی علاقے میں ہوں یہ اصل ہے ۔ اسی کے پیش نظر میری خواہش تھی کہ اس علاقے کے غریب طبقوں کے فلاح وبہبود کے مقصد کے تحت اس تھرفٹ اینڈ کریڈٹ سوسائٹی کے قیام کا خیال میرے ذہن میں آیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس علاقے کے لوگوں کی زبوں حالی پر میری توجہ رہی تھی۔ اس لئے میری دلی خواہش کی تھی عام لوگ جو زیادہ غریب ہیں ان کو روزگار سے جوڑا جائے ۔ پریشانی یہ تھی کہ وہ پیسہ تو کمالیتے تھے لیکن وہ بچا نہیں پاتے تھے اور دیگر ضروریات ان کے ساتھ منھ کھولے کھڑی رہتی تھی۔ اس لئے میں تھرفٹ سوسائٹی کے قیام کا فیصلہ اپنے چند ہم خیال لوگوں کے تعاون سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خالص بلاسودی سوسائٹی ہے ۔ قرض لینے والوں سے کسی طرح کا کوئی سود نہیں لیا جائے گا البتہ آپریشنل اخراجات کے لئے معمولی رقم لی جائے گی۔ اس سے چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والوں کو فائدہ پہنچے گا۔ جیسے ای رکشا چلانے والوں کو فائدہ ہوگا اور کچھ عرصہ کے بعد وہ ای رکشا کا مالک بن جائے گا۔ اس دوران تھرفٹ سوسائٹی کے وژن کی وضاحت کرتے ہوئے سوسائٹی کے نائب صدر انجینئر عبدالمنان نے بتایا کہ ‘روزانہ ہم کم آمدنی والے طبقے کے لوگوں کی جدوجہد دیکھ رہے تھے جو چھوٹے کاروباری جیسے سبزی فروش، پھل فروش، کریانہ کی دکان چلانے والے ، پلمبر، الیکٹریشن وغیرہ جیسے لوگ ہیں۔ ہمارے آس پاس میں وہ اپنی گھریلو ضرورت یا اپنی کاروباری ضرورت کے لیے مالی رسائی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ بلکہ وہ اپنی چھوٹی سی بچتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی جدوجہد کرتے ہیں۔
لہٰذا، ہم نے فیصلہ کیا کہ قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایک ادارہ بنایا جائے ، جہاں یہ ادارہ خود عوام ہی بنائیں گے اور یہ عوام کی مشکلات میں آسانی فراہم کرنے کے لیے ان کی خدمت کرے گا۔ افتتاحی تقریب میں سہولت کے سی ای او اسامہ خان نے کہا کہ ہمارا ادارہ سہولت مائیکرو فنانس سوسائٹی کے اس وقت 111 شاخیں ہیں اور 300,000 رکنیتیں سہولت سے وابستہ ہیں۔ یہ 13 ریاستوں میں کوآپریٹو کا ایک متنوع نیٹ ورک ہے جو مستحقین کو ضرورت پر مبنی مالی خدمات فراہم کرنے کے تجربے سے بھرپور ہے ۔ ہم اپنے تجربے کو سہیوگ کو فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم قیام میں ہر طرح کے انتطامی مشکلات میں ان کو اپنے تجربہ شیئر کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ اس دوران متعدد اہم شخصیات جن میں پریس کلب آف انڈیا کے صدر گوتم لاہڑی، آل انڈیا سوشلسٹ پارٹی کے نائب صدر سید تحسین احمد، مسلم کونسل آف انڈیا کے صدر محمد ادیب، دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام نے بھی اپنے خیالات کا اطہار کیا اور اپنے تجربات بھی شیئر کئے ۔