سمندر میں تابکاری پانی چھوڑنے جاپان کا فیصلہ غیر ذمہ دارانہ

   

چین کا شدید ردعمل، ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا اشارہ ، جاپانی سفیر کی وزارت خارجہ میں طلبی

بیجنگ : چین نے24 اگست سے فوکوشیماڈائچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے آلودہ پانی کی سمندر میں نکاسی شروع کرنے کے فیصلے پر جاپان کے خلاف احتجاجی نوٹس جاری کیا ہے۔چین وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق نائب وزیر خارجہ ‘سن وے ڈونگ’ نے بیجنگ میں جاپان کے سفیر’ تارومی ہیڈیو ‘ کو وزارت خارجہ میں طلب کیا اور چین کے ردعمل سے آگاہ کیا ہے۔بیان کے مطابق مذاکرات میں سن نے کہا ہے کہ جاپان کا فیصلہ “خود غرضی پر مبنی اور غیر ذمہ دارانہ ” ہے۔ یہ فیصلہ کر کے جاپان نے اپنے مفادات کو ہمسایہ ممالک کے اندیشوں پر فوقیت دی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ چین، بحری حیات، غذائی سلامتی اور عوامی صحت کے تحفظ کے لئے ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کرے گا۔جاپانی سفارت خانے نے بھی موضوع سے متعلق جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات میں سفیر ‘تارومی’ نے ریڈیو ایکٹیو آلودہ پانی کی سمندر میں نکاسی کے فیصلے کو شفاف اور سائنسی شکل میں واضح کیا ہے لیکن اس موضوع پر چین کے دعوے سائنسی حوالے سے بے بنیاد ہیں۔تارومی نے یورپی یونین اور دیگر اقتصادیات کے جاپان کی آبی و غذائی مانیٹرنگ ختم کرنے کی یاد دہانی کروائی اور کہا ہے کہ چین اس معاملے میں قدم اٹھانے والا واحد ملک ہے لیکن ہم سائنسی بنیاد سے محروم کسی بھی حفاظتی تدبیر کو قبول نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ جاپان کے وزیر اعظم کیشیدہ فومیو نے کل کابینہ اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں 24 اگست سے فوکو شیما ڈائچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے آلودہ پانی کی سمندر میں نکاسی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی نے پلانٹ میں تحقیقات کے بعد 4 جولائی کو جاری کردہ رپورٹ میں جاپان کے نکاسی پلان کو محفوظ اور سکیورٹی معیاروں سے ہم آہنگ قرار دیا تھا۔جاپان میں مارچ 2011 کو 9 کی شدت کے زلزلے اور بعد ازاں سونامی میں فوکوشیما ڈائچی نیوکلیئرپاور پلانٹ کے 4 ری ایکٹروں میں سے 3 کو نقصان پہنچا تھا۔ ری ایکٹروں سے ریڈیو ایکٹیو اخراج کی وجہ سے پلانٹ کے اطراف کو آبادی سے خالی کروا لیا گیا تھا۔