سماج کو تقسیم کرنے کیلئے سناتن کا استعمال، چیف منسٹر اسٹالن کے فرزند کیخلاف مقدمہ درج
حیدرآباد۔/3 ستمبر، ( سیاست نیوز) ٹاملناڈو کے وزیر اسپورٹس و یوتھ سرویسیس ادھیاندھی اسٹالن نے کہا کہ سناتن دھرم مچھر، ڈینگو اور ملیریا کی طرح ہے اور اس کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔ ادھیاندھی اسٹالن چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن کے فرزند ہیں اور انہوں نے سناتن دھرم کے خاتمہ سے متعلق پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بیان دیا جس پر بی جے پی چراغ پا ہوچکی ہے۔ ٹاملناڈو پروگریسیو رائٹرس فورم نے اس پروگرام کا اہتمام کیا تھا۔ ادھیاندھی نے کہا کہ میں پروگرام کے منتظمین سے اظہار تشکر کرتا ہوں جنہوں نے مجھے سناتن دھرم کے خاتمہ سے متعلق کانفرنس میں اظہار خیال کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ سناتن دھرم کی مخالفت کے بجائے سناتن دھرم کے خاتمہ کے موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بعض چیزوں کی صرف مخالفت پر اکتفاء نہیں کرسکتے بلکہ انہیں ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مچھر، ڈینگو، کورونا اور ملیریا ایسے ہیں جن کی ہم مخالفت نہیں کرسکتے بلکہ ان کا صفایا کرنا ہوتا ہے۔ سناتن بھی اسی طرح کا ہے اور محض مخالفت سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ اس کے خاتمہ کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سناتن دھرم مساوات اور سماجی انصاف دونوں کے خلاف ہے۔ سناتن کے معنی آخر کیا ہیں۔ وہ چیز جسے تبدیل یا چیلنج نہیں کیا جاسکتا وہی حقیقی معنوں میں سناتن ہے۔ ادھیاندھی جو ایک فلم ایکٹر اور پروڈیوسر بھی ہیں، نے مزید کہا کہ سناتن کو ذات پات کے نام پر تقسیم کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قائد کروناندھی نے تمام طبقات کو ایک گاؤں میں اکٹھا کیا اور اسے مساوات پر مبنی گاؤں کا نام دیا گیا۔ اسی دوران ٹاملناڈو بی جے پی کے صدر کے انا ملائی نے اودیا نیدھی اسٹالن کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ وہ ہندوستان کے 80 فیصد عوام کے قتل عام کی وکالت کررہے ہیں جو سناتن دھرم پر عمل کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا اس بیان سے اپوزیشن اتحاد انڈیا اتفاق کرتا ہے؟ ۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے اتوار کے روز ’سنتنا دھرم‘ پر ایک متنازعہ بیان پر دینے پر ٹاملناڈو حکومت کے وزیر کھیل اور چیف منسٹر کے بیٹے ادھیاندھی اسٹالن کے خلاف دہلی پولیس میں شکایت درج کرائی۔وکیل ونیت جندال نے دعویٰ کیا ہے کہ ادھیاندھی مارن نے ایک تقریر میں سناتن دھرم کے خلاف اشتعال انگیز، تضحیک آمیز اور اکسانے والا بیان دیا ہے۔ ہندو اور سناتن دھرم کے پیروکار ہونے کے ناطے سٹالن ادھیاندھی کے بیانات سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ شکایت کنندہ وکیل ونیت جندال نے بتایا کہ سناتن دھرم کو ختم کرنے اور سناتن کا موازنہ مچھروں، ڈینگو، کورونا اور ملیریا سے کیا گیا ہے۔