وائناڈ لینڈ سلائیڈنگ کو آفت قرار دینے پر زور، متاثرین کیلئے 2000 کروڑ روپئے کا تقاضہ
نئی دہلی: راجیہ سبھا میں ممبران پارلیمنٹ نے تمل ناڈو میں طوفان فینگل سے ہونے والی تباہی کے لیے دی گئی مالی امداد پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیرالہ کے وایناڈ میں لینڈ سلائیڈنگ کو ایک سنگین آفت قرار دیا۔ اتر پردیش کے سنبھل اور دارالحکومت دہلی میں آلودگی اور دیگر مسائل پر اپنے مطالبات پیش کئے ۔دراوڑ منیترا کزگم کے ایم محمد عبداللہ نے تمل ناڈو کے کئی علاقوں میں طوفان فینگل کے تباہ کن اثرات کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے ریاست میں زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بہت سے لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کیلئے 2000 کروڑ روپے کی مالی امداد کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے متاثرہ افراد کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ نقصان کا اندازہ لگانے کیلئے مرکزی حکومت کی ایک ٹیم ریاست بھیجی جانی چاہئے اور متاثرہ لوگوں کیلئے ایکس گریشیا کا اعلان کیا جانا چاہئے ۔ایم ڈی ایم کے کے وائیکو نے کہا کہ فینگل طوفان کی وجہ سے کئی اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد میں ماہی گیروں کی کشتیاں تباہ ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو ریاست میں بھیجا جانا چاہئے اور متاثرہ لوگوں کی مالی مدد کی جانی چاہئے ۔سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو نے سنبھل کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ 19 نومبر کو ایک وکیل نے منصف مجسٹریٹ کو سنبھل کی پانچ سو سال پرانی مسجد کا سروے کرانے کے لیے درخواست دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس پر دو گھنٹے کے اندر کارروائی کی گئی اور سروے بھی پرامن طریقے سے کیا گیا۔ ایس پی رکن نے کہا کہ 24 نومبر کو سنبھل کو پولیس چھاؤنی بنا دیا گیا تھا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سینئر ایس پی اور درخواست گزار کے وکیل پولیس فورس کے ساتھ مسجد میں داخل ہوگئے ۔ بھیڑ کو شبہ تھا کہ وہ تخریب کاری کیلئے وہاں گئے تھے ۔ وہاں ڈی ایم نے حوض کا پانی کھلوایا اور جیسے ہی پانی باہر آیا، لوگوں کو لگا کہ کچھ گڑبڑ ہو گئی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے بدامنی پھیل گئی ۔ پولیس کی فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ۔انہوں نے کہا کہ سنبھل سے ملحقہ اضلاع میں حالیہ انتخابی دھاندلیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے منصوبہ بند طریقے سے ایسا کیا گیا۔ جب ایس پی کے رکن نے انتخابات میں پولیس کے غلط استعمال کے بارے میں بات کرنا چاہی تو چیئرمین نے کہا کہ یہ ریکارڈ پر نہیں جائے گا اور یادو کو بیٹھنے کو کہا۔ اس پر ایس پی کے اراکین ایوان سے یہ کہتے ہوئے واک آؤٹ کر گئے کہ ان کے لیڈر کو وقفہ صفر کیلئے مقرر تین منٹ تک بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔