سنتوش کمار چیف منسٹر ریونت ریڈی کا جاسوس: کے کویتا

   

کے سی آر کے پاس رہنے والا پہلا شیطان، تمام برائیوں کی جڑ، پارٹی انتشار کا ذمہ دار
حیدرآباد27 جنوری (سیاست نیوز ) تلنگانہ میں فون ٹیاپنگ معاملہ ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اس کیس میں بی آر ایس کے سابق رکن راجیہ سبھا سنتوش راؤ کو ایس آئی ٹی سے نوٹس کے بعد تلنگانہ جاگرتی کی صدر سابق ایم ایل سی کے کویتا نے اور سنسنی خیز ریمارکس کئے ۔ کویتا نے سنتوش کمار پر تنقید کرکے کہا کہ یہ کے سی آر کے پاس رہجنے والا پہلا ’شیطان‘ ہے اور بی آر ایس کے اندرونی معاملات میں سازشوں کا اصل ذمہ دار ہے۔ ان کا الزام تھا کہ سنتوش کمار چیف منسٹر ریونت ریڈی کا اہم جاوس بن کر کام کررہا تھا اور پارٹی کی خفیہ معلومات ان تک پہنچاتا رہا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ فارم ہاوز میں کے سی آر نے پوری اڈلی کھائی یا آدھی اس کی خبر بھی سنتوش ہی ریونت ریڈی تک پہنچاتا تھا۔ کویتا نے کہا کہ سنتوش کمار کی وجہ سے بی آر ایس کے کئی قائدین کو ذلت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ انقلابی شاعر غدر کو بھی پرگتی بھون کے گیٹ کے باہر سنتوش کمار نے ہی بٹھایا تھا۔ حتی کہ پارٹی کے بانیوں میں شامل ایٹالہ راجندر کی بی آر ایس سے معطلی کے پیچھے بھی ان کی سازش تھی۔ کویتا نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ سنتوش نے پارٹی سربراہ کے سی آر کو پارٹی کارکنوں اور غریب عوام سے دور رکھنے کی دانستہ کوشش کی ۔ انہوں نے بی آر ایس کیڈر سے اپیل کی کہ وہ سنتوش کمار کے حق میں کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے ٹوئیٹس کا نوٹ لیں اور حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ فون ٹیاپنگ معاملے میں کویتا نے کہا کہ اصل سرغنہ ریونت ریڈی ہیں جو اپنے جاسوس کو بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے ایس آئی ٹی سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں غیر جانبداری سے تحقیقات کی جائیں اور حقائق عوام کے سامنے لایا جائے ۔ 2