شملہ : ہماچل پردیش میں شملہ واقع سنجولی مسجد کا تنازعہ اس وقت کافی بڑھا ہوا ہے۔ معاملہ عدالت میں ہے، لیکن دو طبقات کے درمیان بیان بازی کا سلسلہ تیز ہوتا جا رہا ہے۔ اس درمیان آج اس متنازعہ مسجد معاملہ میں کمشنر کورٹ میں سماعت ہوئی جس میں اہم دلیلیں پیش کی گئیں۔ مقامی لوگوں کی طرف سے مسجد کی ناجائز تعمیرات کو لے کر باتیں رکھی گئیں، جبکہ مسجد کمیٹی نے اپنی طرف سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسجد ناجائز زمین پر نہیں بلکہ وقف کی زمین پر تعمیر ہوئی ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سماعت کے دوران مسجد کمیٹی کے فریق لطیف مسجد تعمیر سے متعلق ضروری ریکارڈ پیش نہیں کر پائے اور وہ یہ بھی نہیں بتا پائے کہ مسجد تعمیر کے لیے پیسہ کہاں سے آیا اور کس اکاؤنٹ میں پیسہ آیا۔ اس تعلق سے عدالت نے تفصیل جاننے کی کوشش کی۔ اب اس معاملے میں آئندہ سماعت کے لیے 5 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ آج سماعت میں شملہ کے مقامی شہریوں کی طرف سے کمشنر کورٹ میں درخواست دی گئی کہ مسجد معاملہ میں انھیں بھی فریق بنایا جائے۔