نئی دہلی، 10 مارچ (آئی اے این ایس) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے کہا ہے کہ سنجو سیمسن کی ویسٹ انڈیز کے خلاف 97 رنز کی شاندار اننگز آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ میں ہندوستان کی کامیاب مہم کا اصل موڑ ثابت ہوئی۔ اس ٹورنمنٹ کے اختتام پر میزبان ہندوستان نے نیوزی لینڈ کو نریندر مودی اسٹیڈیم میں شکست دے کر اپنی تیسری عالمی ٹرافی جیت لی۔گمبھیر نے کہا کہ ہندوستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے ورلڈکپ جیتنا ان کے لیے انتہائی جذباتی اور اعزازکی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ انہیں ہندوستانی ٹیم کا ہیڈ کوچ بننے کا موقع ملے گا۔ ان کے مطابق قومی جرسی پہن کر یا ملک کے لیے کوئی خاص کارنامہ انجام دینا ہمیشہ ایک بڑا اعزاز ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ماں آپ کو مبارکباد دیتی ہے اور کہتی ہے ’’بہت اچھا کیا‘‘ تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جس کے لیے کھلاڑی کھیلتا اور جیتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے بڑا احساس اور کیا ہوسکتا ہے کہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کو فخر محسوس کروایا جائے۔ گمبھیر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پورے ٹورنمنٹ کے دوران کھلاڑیوں کو یہی پیغام دیا کہ ہندوستان کی نمائندگی کرنا ایک اعزاز ہے، کوئی حق نہیں۔ ان کے مطابق ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو ہندوستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ کی جگہ پر ہونا چاہتے ہیں اور بے شمارکرکٹرز ایسے ہیں جو ٹیم میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہیڈ کوچ کے مطابق ٹیم کی کامیابی صرف نتائج کی وجہ سے نہیں بلکہ اس بے خوف حکمت عملی کی بدولت ممکن ہوئی جسے کھلاڑیوں نے پورے ٹورنمنٹ کے دوران اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی20 فارمیٹ میں اصل چیز اثر پیدا کرنا ہے، نہ کہ ذاتی سنگ میل حاصل کرنا۔ کھلاڑی کا مقصد میدان میں جاکر بیٹنگ، بولنگ یا فیلڈنگ کے ذریعے ٹیم کے لیے کلیدی رول اداکرنا ہونا چاہیے۔گمبھیر نے مزید کہا کہ اس ورلڈ کپ میں ٹیم کی بنیادی حکمت عملی یہ تھی کہ ہرگیند پر توجہ مرکوز رکھی جائے اور موجودہ لمحے میں کھیلا جائے۔ ان کے مطابق جوگزرگیا وہ واپس نہیں آ سکتا اور مستقبل کو قابو نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ہر اگلی گیند میچ کا رخ بدل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کئی کھلاڑیوں کی کارکردگی نے ٹیم کی کامیابی میں کردار ادا کیا، لیکن ویسٹ انڈیزکے خلاف سنجو سیمسن کی 97 رنزکی اننگز اس مہم کا فیصلہ کن موڑ تھی۔ گمبھیر کے مطابق وہ مقابلہ دراصل کوارٹر فائنل جیسی اہمیت رکھتا تھا اور ورلڈکپ کے میچ میں 195 رنز کا ہدف حاصل کرنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سنجو سیمسن نے جس اعتماد اور سکون کے ساتھ بیٹنگ کی اس سے ٹیم کے ڈریسنگ روم میں نیا اعتماد پیدا ہوا۔ انہوں نے نمبر تین پر بیٹنگ کرنے والے ایشان کشن کی کارکردگی کی بھی تعریف کی۔