سندھو ورلڈ ٹورفائنلس میں بہتر مظاہرے کیلئے پرعزم

   

کانگ ژہو۔/10 ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) عالمی چمپین شپ میں گولڈ میڈل حاصل کرتے ہوئے خطاب کے قحط کو ختم کرنے والی ہندوستانی بیاڈمنٹن کھلاڑی پی وی سندھو اُمید کررہی ہیں کہ کل یہاں شروع ہونے والے سیزن کے آخری ٹورنمنٹ بی ڈبلیو ایف ورلڈ ٹور فائنلس میں بہتر مظاہرہ کریں گی۔ سندھو نے اگسٹ میں سوئٹزر لینڈ کے شہر بیسل میں منعقدہ ورلڈ چمپین شپ میں خطابی مقابلہ کیا تھا لیکن اس کے بعد سے وہ ناقص فارم کا شکار ہیں۔ اولمپک میں ہندوستان کیلئے سلور میڈل حاصل کرنے والی سندھو نے انڈونیشیا اوپن کے فائنل میں رسائی حاصل کی تھی لیکن جولائی میں یہ ان کا آخری بہترین مظاہرہ ثابت ہوا کیونکہ اس کے بعد کوریا اوپن کے پہلے ہی راؤنڈ میں انہیں شکست برداشت کرنی پڑی جس کے بعد چینا اوپن میں بھی انہیں دوسرے ہی راؤنڈ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ہانگ کانگ اوپن، ڈنمارک اوپن میں بھی وہ دوسرے مرحلہ سے آگے نہیں بڑھ پائی تھیں۔ آخری مرتبہ انہوں نے اپنا بہتر مظاہرہ فرنچ اوپن میں کیا تھا جہاں وہ کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کرپائی تھیں۔عالمی درجہ بندی میں سرفہرست 8 کھلاڑیوں کو ہی ورلڈ ٹور فائنل میں شرکت کا موقع دیا جاتا ہے جبکہ اس وقت سندھو کا عالمی درجہ بندی میں 15 واں مقام ہے لیکن اس کے باوجود وہ بحیثیت عالمی چمپین ہونے کی وجہ سے اس ٹورنمنٹ میں شرکت کی اہل قرار پائی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ناقص فارم کے باوجود سب کی نظریں سندھو پر مرکوز ہیں کیونکہ وہ اس ٹورنمنٹ میں بہترین مظاہرہ کیلئے مشہور ہیں۔ ہندوستانی کھلاڑی نے ہانگ کانگ اوپن کے بعد وقفہ لیا تھا تاکہ تازہ دَم ہوکر ورلڈ فائنل میں بہتر مظاہرہ کرسکیں۔ سندھو نے 2017 اور 2018 میں خطابی مقابلہ کھیلا ہے۔ اس مرتبہ سندھو کو گروپ اے میں چینی کھلاڑی یوفی آر ای بینگ بھی شامل ہیں جبکہ جاپان کی اکین یاماگوچی بھی اسی گروپ میں شامل ہیں۔