سنکرانتی کے موقع پر ریونت ریڈی سے آندھرا پردیش کو پانی کا تحفہ

   

چندرا بابو سے دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں درخواست سے دستبرداری : ہریش راؤ کا الزام
حیدرآباد۔12جنوری(سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے تلنگانہ کا پانی آندھراپردیش کو سنکرانتی کے تحفہ کے طور پر دے دیا ہے۔ سابق ریاستی وزیر و بی آر ایس قائد مسٹر ٹی ہریش راؤ نے سپریم کورٹ میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت سپریم کورٹ میں بری طرح سے اپنے حق سے محروم ہوچکی ہے ۔ انہو ں نے ریاست کی آبی تقسیم معاملہ میں ریاستی حکومت کے موقف اور آندھراپردیش کو پولاورم ۔نلہ ملا ساگر پراجکٹ پر تعمیراتی کاموں کا وقت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ ہریش راؤ نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت نے کرشنا اور گوداوری پر پراجکٹس کی تعمیر پر شدت کے ساتھ اعتراض کرنے والے چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو سے دوستانہ تعلق پر تلنگانہ عوام چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کی گئی رٹ درخواست سے دستبرداری اور سیول سوٹ فائل کرتے ہوئے پڑوسی ریاست کو اپنا پراجکٹ جاری رکھنے کی راہ ہموار کی ہے۔انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست کو خارج کئے جانے پر تلنگانہ کو ہونے والے نقصان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے تلنگانہ عوام کو دیا گیا یہ دھوکہ تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔انہو ںنے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی ابتداء سے ہی حکومت آندھراپردیش کی بالواسطہ مدد کر رہے ہیں اور اب کمیٹیوں کی تشکیل کے ذریعہ پڑوسی ریاست کے غیر قانونی پراجکٹس کی تعمیر میں مدد کی جارہی ہے۔ مسٹر ہریش راؤنے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کو سماعت کے لئے قبول کروانے میں تک ناکام ہوچکی ہے جو کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت کو ریاست کے پانی کو ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھنے میں کس قدر دلچسپی ہے۔انہوں نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اے ریونت ریڈی حکومت نے ابتداء سے ہی کمزور حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ریاست کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کو مسترد کروایا ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی ‘ ریاستی وزیر آبپاشی کیپٹن این اتم کمار ریڈی کے علاوہ حکومت کے سینیئر کونسل ابھشیک منو سنگھوی سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ عوام کو اپنی تیار کردہ حکمت عملی سے واقف کروانے کے علاوہ رٹ درخواست سے دستبرداری کی وجوہات بتائیں کہ کیوں پہلے سے موجود رٹ درخواست سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے سیول سوٹ دائر کرنے کا فیصلہ کیاگیا ۔3