کسانوں کے مسائل نظرانداز کرنے پر حکومت کو انتباہ، قرض معافی اسکیم پر عمل آوری کا مطالبہ
حیدرآباد۔/22 مارچ، ( سیاست نیوز) سابق وزیر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا کہ کسانوں سے دھان کی خریدی کے مسئلہ پر واضح تیقن دیں تاکہ پریشان حال کسانوں کو سکون میسر ہو۔ محمد علی شبیر نے آج سرودیہ سنکلپ پدیاترا میں حصہ لیا جس کا آغاز آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی پنچایت راج سنگھٹن کی صدرنشین میناکشی نٹراجن نے کیا ہے۔ پدیاترا کاماریڈی اسمبلی حلقہ کے بسوا پور میں داخل ہوئی جہاں محمد علی شبیر نے میناکشی نٹراجن اور دیگر قائدین کا استقبال کیا وہ خود بھی پدیاترا میں شامل ہوگئے۔ اس موقع پر محمد علی شبیر نے کہا کہ سابق کانگریس حکومتوں نے بے گھر خاندانوں میں اراضی تقسیم کی۔ اندرا گاندھی دور حکومت میں غریبوں میں اراضیات کی تقسیم عمل میں آئی لیکن کے سی آر حکومت کارپوریٹ کمپنیوں کو اراضی منتقل کررہی ہے۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت کو سنگین نتائج کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسانوں کے مفادات مرکزی حکومت کے ہاتھ میں رہن رکھ دیئے تو کسان بغاوت پر اُتر آئیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر اپنے فارم ہاؤز کو پانی سربراہ کرنے کیلئے کونڈہ پوچماں ذخیرہ آب تعمیر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھرانی پورٹل کے سبب کسانوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور کئی کسان اراضی کی فروخت سے قاصر ہیں۔ انہوں نے خودکشی کرنے والے کسانوں کے خاندانوں کو فی کس 25 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو قرض معافی کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ حکومت کو چاہیئے کہ کسانوں کو کم از کم ایک لاکھ روپئے تک کا قرض فوری معاف کرے۔
منیاکشی نٹراجن نے کہا کہ پدیاترا سیاسی نہیں ہے۔ بھودان تحریک کے 75 سال کی تکمیل پر پدیاترا بھودان پوچم پلی سے شروع کی گئی جو مہاراشٹرا کے سیوا گرام تک جاری رہے گی۔ آشاریہ ونوبابھاوے نے اس تحریک کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد غریبوں کو اراضیات کی فراہمی تھا۔ر