سنکیانگ : مسلمانوں کی 630 دینی شخصیات زیر حراست

   

Ferty9 Clinic

بیجنگ : چین نے 2014ء سے سنکیانگ کے میں جاری چھاپامار کارروائیوں میں کم از کم 630 ائمہ اور دیگر اسلامی مذہبی شخصیات کو حراست میں لیا یا قید میں رکھا ہے۔ یہ دعویٰ ایغور مسلمانوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک تنظیم کی تازہ تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ ایغور ہیومن رائٹس پراجیکٹ کی رپورٹ کے مطابق تنظیم کو شواہد ملے ہیں کہ 18 ائمہ کی حراست کے دوران یا اس کے فوراً بعد ہلاکت ہوئی۔ ان میں سے کئی افراد پر انتہاپسندی پھیلانے یا امن خراب کرنے کے لیے مجمع جمع کرنے اور علاحدگی پسندی کو فروغ دینے جیسے الزامات لگائے گئے۔ تاہم ان کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ ان بے بنیاد الزامات کے پیچھے اصل جرم اسلام کی تبلیغ کرنا، مذہبی اجتماعات منعقد کرانا یا پھر صرف امام ہونا ہی ہیں۔ اس تنظیم نے کل 1046 ائمہ سے متعلق عدالتی دستاویزات، خاندانی گواہیوں اور سرکاری و نجی ریکارڈز کی مدد سے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ تمام کے تمام امام مبینہ طور پر کبھی نہ کبھی چینی حراست میں رہے ہیں، تاہم کئی معاملات کی تصدیق اس لیے ممکن نہیں تھی کہ سنکیانگ میں معلومات کے تبادلے پر چین کا سخت کنٹرول ہے۔