سنگائی پلی گجویل میں مورتیوں کو نقصان پہنچانے والا اکثریتی طبقہ کا شخص گرفتار

   

پولیس کی مستعدی، خاطی کا اعلان، فرقہ پرست افواہ پھیلانے میں ناکام، مرکزی وزرا اور فرقہ پرست جماعتوں کی خاموشی

حیدرآباد۔ 16 اکتوبر (سیاست نیوز) مسلمان جان بوجھ کر منادر کو نشانہ بنا رہے ہیں مندروں میں داخل ہوکر مورتیوں کو توڑا جارہا ہے اور پولیس ان افراد کو پاگل قرار دے رہی ہے۔ ایسی باتیں اور سارے سماج کو تنقید کا نشانہ بناتے افراد کے لئے منہ کی کھانی پڑی چونکہ گجویل کے قریب ایک اس طرح کا واقعہ پیش آیا جہاں مندر اور مورتیوں کو نقصان پہنچانے والے ہندو شخص کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ پاگل کو پاگل کہنے والی پولیس نے گجویل کے معاملہ میں غیر معمولی مستعدی کا مظاہرہ کیا اور فوری طور پر خاطی کا اعلان کرتے ہوئے تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا جس کے ذریعہ ماحول کو بگاڑنے اور سیاسی رنگ دیتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی جاتی لیکن تلنگانہ پولیس نے قبل از وقت ایسی سازش کو بھانپ لیا۔ خاطی شخص کے نام اور شناخت اور تفصیلات کو جاری کردیا جس کے سبب کسی کو بے بنیاد اطلاعات اور افواہوں کو پھیلانے کا موقع نہیں ملا۔ گجویل کے قریب سنگائی پلی موضع میں ایک مندر پائی جاتی ہے، پداماں تلی دیواتا کی مورتیوں کو توڑا گیا جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے، تاہم پولیس اس مرتبہ سازش سے آگے رہی اور تمام تر سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے خاطی 30 سالہ کپاجی وینکٹ سوامی چاری ساکن سنگائی پلی درگل منڈل ضلع سدی پیٹ کو گرفتار کرلیا جو پیشہ سے کارپنٹر ہے۔ 15 اکتوبر کی رات نشہ کی حالت میں دھت کپاجی وینکٹ سوامی چاری نے مندر کی مورتیوں کو نقصان پہنچایا اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعہ پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس گجویل کے پرشوتم ریڈی نے یہ تفصیلات بتائیں۔ اے سی پی نے فوری گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے افواہیں پھیلانے والے اور منافرت پھیلانے والوں کو سخت گیر نتائج کا انتباہ دیا۔ انہوں نے موضع سنگائی پلی کی عوام اور گجویل کی عوام سے امن و بھائی چارہ کو قائم رکھنے کی اپیل کی اور دونوں فرقوں کے درمیان نفرت کے ماحول کو پیدا کرنے والوں کو سنگین نتائج اور سخت کارروائی کا انتباہ دیا۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ گزشتہ دنوں سکندرآباد کے علاقہ میں مندر میں توڑ پھوڑ کا واقعہ پیش آیا اور عوام نے خود خاطی کو پکڑ کر شدید زدوکوب کیا اور اس کی شناخت بھی ظاہر ہوئی۔ تاہم اس دوران مندر پہنچنے والے قائدین اور مرکزی وزراء نے بھی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھایا اور سارے مسلم سماج کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا سارے پاگل مندروں کو ہی نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ ان نفرت کی آگ کو پھیلانے والوں کیلئے گجویل سنگائی پلی کے واقعہ پر بھی اپنی لب کشائی کرنی چاہئے چونکہ سنگائی پلی میں مندر کی مورتیوں کو توڑنے والا کوئی اقلیتی فرقہ کا مسلمان نہیں بلکہ کپاجی وینکٹ سوامی چاری ہے۔ (سلسلہ صفحہ 8 پر)
جو کہیں دو دراز سے سازش پر عمل کرتے نہیں آیا تھا بلکہ اس خاطی ملزم کا تعلق بھی خود اسی سنگائی پلی سے پایا جاتا ہے۔ تب وہ صرف نشہ میں تھا ایک بی جے پی کے قائد نے تو سکندرآباد مندر کے مسئلہ پر انتہا ہی کردی۔ مسلم پولیس ملازم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کتنے دن رہو گے، ہم ہندو نہیں رہے تو تمہارا کیا بنگلہ دیش کا حوالہ دیتے ہوئے کاٹ کاٹ کر پھینکنے کی دھمکی دی اور اس قائد نے ہندوؤں کی نام جیسے الفاظ سے تعبیر کرتے ہوئے انہیں اکسانے اور بدلہ لینے کی ترغیب دے رہا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ تاہم گجویل کے معاملہ میں پولیس کی کارروائی قابل تحسین مانی جارہی ہے۔ ع