لاہور ۔ 13فروری (سیاست ڈاٹ کام) ایم سی سی کی ٹیم کمار سنگاکارا کی قیادت میں لاہور پہنچ گئی، ٹیم دورہ پاکستان میں تین ٹی ٹوئنٹی اور ایک ونڈے میچ کھیلے گی۔ یاد رہے کہ ایم سی سی کی ٹیم 48 سال بعد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچی ہے۔ ایم سی سی ٹیم کے کپتان کمار سنگا کارا نے کہا ہے کہ پاکستان کے لوگ اور یہاں کے کھانے ہمیشہ اچھے لگے اسی وجہ سے یہاں آ کر خوشی ہوئی ہے۔ 2009 کے واقعے سے متاثر کھلاڑی بھی یہاں آنا چاہتے ہیں۔یاد رہے کہ 3 مارچ 2009 کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم سے کچھ دور لبرٹی چوک پر اس بس پر دہشتگردوں نے حملہ کیا جو سری لنکائی کھلاڑیوں کو اسٹیڈیم لے جا رہی تھی۔ اس واقعے میں سری لنکا کے سات کھلاڑی زخمی جبکہ چھ سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ چیف ایگزیکٹو پاکستان کرکٹ بورڈ وسیم خان نے ایم سی سی کے کپتان کمارسنگا کارا کے ہمراہ لاہور میں پریس کانفرنس کی۔ اس دوران سنگاکارا نے کہا کہ آنر بورڈ پر اپنا نام دیکھ کر خوشی ہوئی۔ پی سی بی اور خاص طور پر وسیم خان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، پاکستان کرکٹ کا ایک شاندار ملک ہے۔ ایم سی سی کے کپتان نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ واپس آرہی ہے۔ پاکستان کی مدد کرنا اچھا لگ رہا ہے۔ سیکیورٹی دنیا بھرمیں مسئلہ ہے پاکستان نے اس پرکام کیا اور اعتماد بحال ہوا، پاکستان میں انٹرنیشنل میچز کا ہونا بہت ضروری ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران وسیم خان نے کہا کہ ایم سی سی کو یہاں خوش آمدید کہتے ہیں۔ ایم سی سی کا یہاں آنا بہت خوشی کی بات ہے کمار سنگاکار ا کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتے ہیں، پاکستان میں وائٹ اور ریڈ بال کرکٹ واپس لا رہے ہیں، خاص طور پر ٹسٹ کرکٹ بھی شروع ہوئی ہے۔ کمار سنگاکارا نے مزید کہا کہ وقاریونس، شعیب اختر، محمد سمیع کے خلاف یہاں ایشین ٹسٹ چیمپین شپ کھیلی اور اب بھی اچھی کرکٹ کھیلیں گے۔ انہوں نے کھیل سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ میں بیٹنگ کیلئے سازگار وکٹوں کی امید کررہا ہوں۔ وسیم خان نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیائی ٹیمیں آچکی ہیں اب نان ساوتھ ایشین ٹیمیں بھی آئیں تاکہ دنیا کوبتانے کا موقع ملے کہ پاکستان کرکٹ کے لیے محفوظ ملک ہے۔ جنوبی افریقہ کے ساتھ بات چیت آخری مرحلے میں ہے ، اگلے ہفتے تک اس حوالے سے فیصلہ ہوجانا چاہئے۔