تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات، امتحانات میں بے قاعدگیوں کی شکایت پر کارروائی
حیدرآباد۔/18ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے سنگارینی کالریز میں اسسٹنٹ گریڈ 2 جائیدادوں کے تقررات کے عمل کو روکنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سلسلہ میں کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کو ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا۔ تقررات کے امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کی شکایت کرکے بعض امیدوار ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے جس کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا۔ درخواست گذاروں نے امتحانات کی بے قاعدگیوں سے متعلق دستاویزی ثبوت پیش کئے جس پر عدالت نے تاحکم ثانی تقررات روکنے سنگارینی رکروٹمنٹ سیل کو ہدایت دی۔ جونیر اسسٹنٹ کی جائیدادوں پر تقررات کیلئے حیدرآباد کے علاوہ 8 اضلاع کے 187 مراکز پر 4 ستمبر کو تحریری امتحانات ہوئے ۔ سنگارینی کالریز کے علاوہ جے این ٹی یو کے عہدیدار امتحانات کے شفافیت کے ساتھ انعقاد کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن بعض امیدواروں نے شکایت کی کہ بعض امیدواروں کو گوا لے جاکر امتحان لکھایا گیا کیونکہ گوا میں پرچہ کے افشا کا الزام ہے۔ عدالت سے شکایت کی گئی کہ پرچہ جات کے افشاء کی اطلاع کے باوجود سنگارینی اور جے این ٹی یو حکام نے عجلت میں نتائج جاری کئے۔78 ہزار طلباء نے امتحانات میں حصہ لیا جبکہ 49 ہزار امیدواروں کو اہل قرار دے کر مارکس اور رینکس جاری کئے گئے۔ ایسے امیدوار جو کوالیفائی قرار نہیں دیئے گئے انہوں نے مارکس اور رینک کی اجرائی کا مطالبہ کیا لیکن حکام نے انکار کیا اور صرف اہل امیدواروں کے رینک جاری کئے گئے۔ عدالت نے امتحان کے موقع پر امیدواروں کے نام کے بجائے تلنگانہ، آندھرا پردیش بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن، ڈگری اور دیگر کورسیس کے نام پر ہال ٹکٹ کی اجرائی پر سوال اٹھائے۔ امتحانات سے پندرہ دن قبل سنگارینی میں ایک اہم ملازم کا تقرر کیا گیا۔ درخواست گذاروں کی سماعت کے بعد عدالت نے تقررات کے عمل کو روکنے کی ہدایت دی اور سنگارینی کالریز سے جواب طلب کیا ہے۔ر