ہریش راؤ کو کھلا چیلنج ،2014ء سے تمام سنگارینی ٹنڈرس کی تحقیقات کے لیے حکومت تیار
حیدرآباد ۔ 24 جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارک نے تلنگانہ کی روح سمجھی جانے والی سنگارینی کمپنی کے خلاف من گھڑت کہانیاں پھیلانے کے الزامات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ آج پرجابھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سنگارینی ایک خودمختار ادارہ ہے اور اس کے تمام فیصلے کابینہ کے دائرے میں نہیں آتے۔ بھٹی وکرامارک نے بتایا کہ کول انڈیا نے 2018ء میں ’’سائٹ وزٹ‘‘ کا اصول متعارف کرایا تھا جس کے تحت سنگارینی نے 2021ء میں سائٹ وزٹ کو لازمی بنایا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ 2018ء سے 2021ء تک کانگریس برسراقتدار تھی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے الزام عائد کیا کہ چند حلقے جان بوجھ کر سنگارینی کے ملازمین کو ذہنی اذیت دے رہے ہیں اور جھوٹی و گمراہ کن معلومات فراہم کررہے ہیں۔ بھٹی وکرامارک نے کہا کہ یہ جھوٹا پروپگنڈہ کیا جارہا ہے کہ سائٹ وزٹ کا اصول ملک میں کہیں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ٹنڈرس کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلنے کا اندیشہ ہو تو اس کو فوری طور پر منسوخ کردیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ سنگارینی میں جملہ 25 ٹنڈرس ہوئے جن میں سے 20 بی آر ایس کے دورحکومت میں اور صرف 5 موجودہ حکومت کے دور میں ہوئے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سنگارینی ٹنڈرس کی تحقیقات کے مطالبے پر ہریش راؤ کو چیلنج کیا کہ اگر واقعی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں تو 2014ء سے اب تک ہونے والے تمام ٹنڈرس کی جانچ کی جائے۔ انہوں نے ہریش راؤ پر زور دیا کہ وہ تحقیقات کیلئے حکومت کو مکتوب روانہ کریں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی امریکی سے واپسی کے فوری بعد تحقیقات کرائی جائے گی۔ بھٹی وکرامارک نے کہا کہ عام طور پر کانکنی میں ڈیزل کی فراہمی کا کوئی نظام نہیں ہوتا لیکن 2022ء کے نینی بلاک ٹنڈرس میں ڈیزل پالیسی تبدیلی کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوڈا کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی بی آر ایس قائد کے اوپندر ریڈی کے داماد سروجین ریڈی کی ہے اور اس کمپنی کی ایم ڈی ان کی دختر دپیتی ریڈی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہ سب بی آر ایس سے وابستہ ہیں تو پھر موجودہ حکومت کے خلاف خطوط کیوں لکھے جارہے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سخت لہجے میں کہا کہ وہ سنگارینی کوئلے کے کنوؤں پر کسی گدھ کو آنے نہیں دینگے۔ 2
انہوں نے کہا کہ وہ سیاست میں دولت بنانے نہیں بلکہ سماجی خدمات اور سماج میں تبدیلی لانے آئے ہیں اور اپنی پدیاترا کے دوران بھی سنگارینی کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی تھی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تلنگانہ کی ضرورت کے مطابق کوئلے کے کنوؤں کا تحفظ کیا جائے گا اور حقائق کے بغیر الزامات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔2