ایڈیشنل کلکٹر ویرا ریڈی کا اعتراف، تلگو کے ساتھ اردو کو ترقی دینا حکومت کا مقصد
سنگاریڈی ۔ مشاعرے ذہنی آسودگی فراہم کرنے کاایک اہم ذریعہ ہے۔فنون لطیفہ میں مشاعروں کی اپنی الگ اہمیت ہے فی زمانہ تفریح کے کئی ذرائع وجود میں آنے کے باوجود مشاعروں کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ان خیالات کا اظہار جی ویرا ریڈی ایڈیشنل کلکٹرضلع سنگاریڈی نے کیا وہ کل تلنگانہ یوم تاسیس کے ضمن میں کلکٹریٹ کے کانفرنس ہال میں منعقدہ سہ لسانی مشاعرہ سے بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب تھے۔ایڈیشنل کلکٹر نے اس شاندار مشاعرہ کے انعقاد اور شعراء کے بہترین موضوعاتی کلام پیش کرنے پرشعراء کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہذیبی پروگرامس پیش کرنے میں ضلع سنگاریڈی کو ریاست میں منفرد مقام حاصل ہے۔اس ضلع کی ادبی سرگرمیاں پوری ریاست میں نمایاں اور قابل تقلید ہیں حکومت تلنگانہ بھی تلگو کے ساتھ اردو کو مساوی ترقی دینا چاہتی ہے اور یہ سہ لسانی مشاعرہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔صدر لٹریری فورم ظہیرآباد سعداللہ خان سبیل نے اس شاندار مشاعرہ کے بیانر پر اردو تحریر نہ کروانے کی ایڈیشنل کلکٹر سے شکایت کی جس پر انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے آئندہ بیانر پر اردو زبان کی شمولیت کو یقینی بنانے کا تیقن دیا۔جی ویرا ریڈی ایڈیشنل کلکٹرضلع سنگاریڈی نے تلنگانہ کے قیام میں اپنی جانوں کی قربانی دینے والے شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں یہ بھی کہا کہ پروفیسر ج? شنکر کا نظریہ اورکے سی آر کی انتھک محنت نے تلنگانہ کے خواب کوشرمندہ تعبیر کیا۔مشاعرہ میں اردو کے شعراء سیف الدین سیف , فیاض علی سکندر, سعداللہ خان سبیل , محمود علی اسیر کے علاوہ ہندی زبان کے سرینواس چاری عبداللہ ,رام چندر ہندی سوجنیا اور تلگو زبان کے کمارگاندھی ,تلوار ملیش ,بالا راجو ,ٹی روی کمار,ستی بالا جی , پورنا کرشناو دیگر نے کلام پیش کرکے داد و تحسین پائی۔تلگو کوی بھانو پرکاش نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔اس موقع پر آر ڈی او سنگاریڈی نگیش ,ہنمنت آچاریہ و دیگر موجود تھے۔