تلنگانہ جہدکار بی سی قائد ستیہ نارائنا کی حکمراں جماعت میں شمولیت، چیف منسٹر نے خیرمقدم کیا
سنگاریڈی۔ 3 مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) آر ستیہ ناراینا سابق ایم ایل سی نے بی آر ایس پارٹی سے اپنی دیرینہ وابستگی کو ختم کرتے ہوئے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سدی پیٹ میں ان سے ملاقات کی اور کانگریس پارٹی کا کھنڈوا پہنا کر کانگریس پارٹی میں شامل کیا۔ آر ستیہ ناراینا کے ساتھ ان کے حامی بھی کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے جن میں نرسمھا ریڈی، جے روی، امین الدین، پنڈری، اننت ساگر پربھاکر، لکشمن، نوتن کمار، راجا مولی اور دیگر شامل ہیں۔ اس موقع پر کونڈہ سریکھا وزیر جنگلات و انچارج منسٹر متحدہ ضلع میدک، نیلم مدھو کانگریس امیدوار حلقہ پارلیمنٹ میدک، نرملا جگا ریڈی صدر ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی ضلع سنگاریڈی مائنم پلی ہنمنت راو سابق رکن اسمبلی، پولی مامڈی راجو اور دیگر قائدین موجود تھے۔ آر ستیہ ناراینا کا شمار تحریک تلنگانہ کے جہد کاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ضلع میدک کے کلچارم منڈل کے موضع وری گنتم کے متوطن ہیں اور گزشتہ 30 سال سے سنگاریڈی میں مقیم ہیں۔ انھوں نے طلباء یونین قائد کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور پھر 1985 میں پیشہ جرنلزم اختیار کیا۔ ایناڈو سے اپنا صحافتی کریئر شروع کیا۔ سنگاریڈی میں اودایم اور وارتا تلگو اخبار اسٹاف رپورٹر کی حیثیت سے خدمت انجام دی۔ منجیرا تھیرم ہفت روزہ اور سلام حیدرآباد شائع کیا۔ تلنگانہ سے نا انصافیوں پر اخبار میں مضامین کے ذریعہ عوامی شعور بیداری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تلنگانہ میں آبپاشی کی صورتحال پر کتب تحریر کیں۔ نیٹی گوسہ اور اکشرا ایودھم نامی کتابیں تحریر کی ہے۔ تلنگانہ میں پانی، زراعت، کسان اور بیروزگاری پر مضامین تحریر کرتے ہوے تحریک تلنگانہ کے لیے راے عامہ ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ وہ منجیرا رچائتلو سنگھم، تلنگانہ ودیا ونتلو ویدیکا اور تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس اور دیگر عوامی تنظیموں سے وابستہ رہے۔ سماجی برائیوں، توہم پرستی کے خلاف اور دیگر عوامی تحریکات میں سرگرم رہے ہیں۔ ٹی آر ایس کے قیام کے بعد کے سی آر کے قریبی رفقاء میں شمار کئے جاتے تھے۔ انھوں نے پیشہ صحافت کو خیر باد کہتے ہوے 2007 میں گریجویٹ ایم ایل سی حلقہ کریم نگر، میدک، نظام آباد اور عادل آباد سے مقابلہ کیا اور 6 سالہ میعاد کے لیے زبردست اکثریت سے کامیابی حاصل کی تاہم تحریک تلنگانہ میں سربراہ بی آر ایس کے سی آر کی ہدایت پر اندرون ایک سال اپنے عہدہ ایم ایل سی سے 2008 میں مستعفی ہوگئے۔ بی آر ایس نے انھیں ماضی قریب میں تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کا ممبر نامزد کیا تھا کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد انھوں نے رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ لوک سبھا انتخابات میں حلقہ میدک سے بی آر ایس ٹکٹ کے دعویدار تھے۔ انھوں نے ان کے دیرینہ تجربہ، خدمات، تعلقات عامہ، صاف و شفاف کردار کی بناء پر ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ آر ستیہ ناراینا پدما شالی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کے حلقہ پارلیمنٹ میدک میں ایک لاکھ سے زائد ووٹ ہیں۔ آر ستیہ ناراینا کی کانگریس میں شمولیت سے پارٹی کو فائدہ ہوگا۔
