اندرا پارک پر احتجاجی دھرنا، ایم سرینواس سی پی آئی ایم قائد اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔یکم ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ملک میں جاری سنگھ پریوار کی دہشت کو ختم کرنے کیلئے علاقائی اور سیکولر جماعتوں کو آگے آنا ہوگا۔برسوں تک علاقائی جماعتوں کو طاقت بخشنے والی مسلم اقلیت کا ساتھ دینا ہر سیکولر اور علاقائی جماعت کی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہارسی پی آئی ایم سٹی سکریٹری مسٹر ایم سرینواس نے کیا۔ وہ آج یہاں اندرا پارک پر منعقدہ احتجاجی جلسہ سے مخاطب تھے۔ انہوں نے کہاکہ کسانوں کے خلاف قوانین کی واپسی کے بعد اب سی اے اے اور این آر سی کو برخواست کرنے تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ اقلیتوں کو ملک میں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں اس کے لئے سی پی ایم ہر محاذ پر مسلم اقلیت کا ساتھ دے گی۔ ملک میں اقلیتوں پر انتہا پسندانہ حملوں کے خلاف آج ملک گیر سطح پر سی پی ایم کی جانب سے احتجاج منعقد کیا گیا۔ اس ضمن میں سی پی ایم کی اپیل پر مختلف مسلم اور عیسائی گروپس نے احتجاج میں شرکت کی۔ اس موقع پر ایم سرینواس نے کہا کہ مسلمانوں کو لو جہاد ، بیف اور تبدیلی مذہب کے نام پر ہجومی حملے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اقتدار والی ریاستوںمیں حملے بڑھ گئے ہیں۔ سٹی سکریٹری نے تریپورہ تشدد پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اقلیتوں کے دستوری حقوق کو ختم کرنے کی سنگھ پریوار کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کے دوبارہ اقتدار پر آنے کے بعد ملک میں چرچس پر حملے کئے گئے اور تشدد کرنے والے سوشیل میڈیا پر ہیرو بنتے ہوئے دوسروں کو حملہ کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اس خطرناک رجحان کو جو ملک کی تباہی کا سبب بن رہا ہے اس کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔ مسلمانوں کو مودی زندہ باد اور جئے سری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر اور علاقائی جماعتوں کو اپنا حق اداکرنے اور ذمہ داری نبھانے کا وقت آگیا ہے اور انہیں چاہیئے کہ وہ مسلمانوں کا ساتھ دیں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ملک کو بچانے کے اقدامات کریں۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ قدوس غوری نے کہاکہ سنگھ پریوار ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کرنے کے درپہ ہے۔ اقتدار کی خاطر ملک کی عوام کو آپس میں لڑاتے ہوئے وہ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنا رہا ہے۔ انہوں نے دلتوں اور عیسائیوں پر مظالم کی سخت مذمت کی اور کہا کہ سنگھ پریوار کے ظلم کا شکار مسلمان، عیسائیوں اور دلتوں و پچھڑے ہوئے طبقات کو چاہیئے کہ وہ سیکولر جماعتوں بالخصوص سی پی ایم کے ساتھ فرقہ پرستی کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں۔ اس موقع پر ایم دشرتھ، ایم مہیندر، راجنا ، اے کے پاشاہ، وانی، وینکٹیش، محمد علی، عقیل، جبار اور دیگر موجود تھے۔ع