سنگین حالات میں بھی ہم ایک نہیں، تو آخر کب ؟

   

دوسروں پر تنقیدیں چھوڑدیں ، نیکی کے کاموں میں تعاون کریں ، جماعت اسلامی کے اجلاس سے مفتی عبدالفتاح ، زاہد بیگ و دیگر کا خطاب

ورنگل۔ 31 جنوری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جماعت اسلامی ہند ہنمکنڈہ و قاضی پیٹ کے زیر اہتمام اسلامک انفارمیشن سنٹر رائے پورہ ہنمکنڈہ میں ایک خصوصی اجلاس بضمن جماعت اسلامی ہند کی جدوجہد کے 75سال کا زیر صدارت محترم جناب ایم این بیگ زاہد انعقاد عمل میں لایا گیا ۔ محترم مولانا حافظ محمد رفیق احمد نظامی ناظم جامعتہ البنات و نائب صدر رفاق العلماء حلقہ تلنگانہ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔اس موقع پر جناب ایم این بیگ زاہد سکریٹری شعبہ اسلامی معاشرہ جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ آج پوری دنیا میں خصوصاً ہمارے ملک ہندوستان میں مسلمانوں کے حالات بد ترین ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اخلاق کردار کے ذریعہ اسلامی کی صحیح تصویر پیش کرکے یہ ثابت کریں کہ اسلام امن اور بھائی چارگی کا مذہب ہے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ ،رسول ،قرآن ،روزہ ،حج ، زکوۃ اور دیگر کئی ایک اصول ایک ہونے کے باوجود ہم میں اتحاد کیوں نہیں ہے۔ ہمیں تمام لوگوں کو کلمہ کی بنیاد پر متحد ہونا ضروری ہے۔ ملت اسلامیہ کی صفحوں میں اتحاد کی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوںنے کہا کہ ہر کلمہ گو ہمارا بھائی ہے چاہے وہ کسی مسلک و مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہو ۔ہر نیکی کے کاموں میں ہمیں ایک دوسرے کا تعاون کر نا چاہیے۔ ایک دوسرے پر تنقید کرنا چھوڑ دیں ۔انہوںنے علماء سے خواہش کی کہ وہ اپنے جمعہ کے خطبا ت میں ملت کو جوڑنے اور تمام لوگوں کو قرآن مجید کی طرف راغب ہونے خصوصی توجہ مرکوز کریں ۔تمام لوگوں کو جوڑنے کا کام علماء بہترین طور پر کرسکتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ حالات کو بدلنے کا اختیار صرف اللہ تعالی کو ہے ہمیں اپنے آپ میں تبدیلی لانے کے ضرورت ہے ۔اس موقع پر مفتی عبدالفتاح عادل سبیلی رکن وفاق العلماء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہم کتنے سخت حالات سے گذر رہے ہیں، ہرطرف پورے ملک میں منافرت کا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے۔ ملک اور ملک کے ہر باشندے نازک صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں اب بھی اگر ہم ایک نہیں ہوں گے تو کب ہوں گے۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم مسلکوں کی لڑائی چھوڑکر ملت کے اجتماعی کاموں مل جل کر کام کریں۔ یاد رکھئے جو قوم اتحاد واتفاق کی دولت سے محروم ہوجاتی ہے وہ آہستہ آہستہ انحطاط و تنزلی کی ان عمیق گہرائیوں میں جا گرتی ہیں جہاں سے انہیں دوبارہ اٹھنا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ ہمارے انتشار سے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں اور سازش پر سازش کرتے چلے جارہے ہیں۔ اورہم ہیں کہ برسوں کی بے حسی کو توڑنے کیلئے تیار نہیں۔مولانا حافظ محمد رفیق احمد نظامی نے جماعت اسلامی ہند کے مختلف تاریخی پہلوئوں پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالی نے ہر زمانے میں ایک گروہ کو قائم رکھے گا جو اللہ کی باتیں لوگوں تک پہنچائیں ۔انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی ہند کی جانب سے تقریباً زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا گیا ہے ۔ جناب سید دستگیر نے تلاوت و ترجمانی کی ۔مولانا شاہ عالم فلاحی نے افتتاحی کلمات پیش کئے ۔محمد وہاج الحق امیر مقامی ہنمکنڈہ نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ مولانا محمد رحمت اللہ شریف نے دعا کی ۔محمد قدیر رکن جماعت ہنمکنڈہ نے ہدیہ تشکر پیش کیا ۔اس موقع پر محمد مجاہد عرفان امیر مقامی قاضی پیٹھ ،سید اظہر الدین امیر مقامی قلعہ ورنگل ،عبدالستار امیر مقامی ورنگل ،سید شفیع اللہ ،ڈاکٹر مصطفی شریف کے علاوہ علماء و حفاظ کی کثیر تعداد موجود تھی ۔