پنجاب اسمبلی میں قرار داد متفقہ طور پر منظور
چندی گڑھ ۔ 7 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پنجاب اسمبلی میں آج ایک قراردادمتفقہ طور پر منظور کی گئی جس کے ذریعہ سنہری گردوارہ میں خواتین کو کیرتن کی اجازت دینے کیلئے اکالی تخت اور شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی پر زور دیا گیا ہے ۔ ریاستی وزیر ترپت راجندر سنگھ باجوا نے ایوان میں قرارداد پیش کی ۔ انہوں نے بتایا کہ سکھ مذہب کے بانی گرونانک دیو نے ذات اور صنف میں عدم مساوات کے خلاف زندگی بھر جدوجہد کی ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف اس امتیازی سلوک کو بھی ختم کرنا چاہیئے ۔ انہوں نے اکالی لیڈر کے اس دعویٰ کو مسترد کردیا کہ سکھ مذہب کے مطابق ’’ ریحت مریادا‘‘ یعنی مذہبی اقدار کے تحت سکھ خواتین کو دربار صاحب میں کیرتن کی اجازت نہیں ہے ۔ انہوں نے اکالی لیڈر جاگیر کور کا حوالہ دیا جس نے سکھوں کے مقدس مقام پر سکھ خواتین کو کیرتن سیوا کی اجازت دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ باجوا نے مزید کہا کہ سکھوں کی تاریخ میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا کوئی تذکرہ نہیں ہے جس میں کیرتن کیلئے سکھ خواتین کو اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ اس موقع پر مداخلت کرتے ہوئے اکالی رکن پرمیندر سنگھ دھندسا نے کہا کہ اس قرارداد کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اکالی تخت اور شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی جان بوجھ کر سکھ خواتین کو سنہری گردوارہ میں کیرتن سے روک رہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وہ باجوا کے جذبات و احساسات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن انہوں نے یہ بھی کہاکہ اکالی تخت اس مسئلہ سے پہلے ہی سے بہ خبر ہے ۔ باجوا نے اس پر کہا کہ وہ اکالی تخت کے اختیارات کو چیلنج نہیں کررہے ہیں بلکہ صرف درخواست کی جارہی ہے کہ سنہری گردوارہ میں کیرتن کی سکھ خواتین کو اجازت دی جائے ۔ عام آدمی پارٹی کے رکن کلتر سنگھ سیندھوا نے قرارداد پر سوالات اٹھانے کیلئے اکالی قائدین کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ شرومنی اکالی دل نے پہلے قرارداد کے بعض جملوں پر اعتراض کیا تھا تاہم بعد میں اس نے قرارداد کی حمایت کی ۔