حیدرآباد۔6 ماہ طویل کورونا لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے بعد تلنگانہ میں 15 اکٹوبر سے سنیما تھیٹرس کو محدود تعداد کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے تاہم تھیٹر مالکین آمدنی کے بارے میں ابھی بھی فکر مند ہیں۔ حکومت نے اَن لاک 5 کے تحت سنیما تھیٹرس کو کھولنے کی اجازت دے دی اور صرف 200 نشستوں کے ساتھ فلموں کی نمائش کی جاسکے گی۔ تھیٹر کی گنجائش بھلے ہی کچھ ہو لیکن ہر شو میں صرف 200 افراد کو داخلہ دیا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ داخلہ کے وقت تھیٹر انتظامیہ کو سنیٹائزر کا انتظام کرنے کی ہدایت دی گئی ہیط۔ سنیما تھیٹرس گذشتہ کئی ماہ سے بند ہیں اور نہ صرف مالکین بلکہ فلم ڈسٹری بیوٹرس کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اب جبکہ حکومت نے محدود تعداد کے ساتھ تھیٹرس کھولنے کی اجازت دی ہے لیکن یہ اجازت تھیٹر مالکین کیلئے فائدہ مند نہیں ہے۔ شہر میں کئی تھیٹرس ایسے ہیں جن میں 800 تا 1300نشستوں کی گنجائش ہے۔ کئی تھیٹر مالکین نے فلموں کی نمائش کے آغاز کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوویڈ قواعد اور دیگر احتیاطی تدابیر کے ساتھ تھیٹر کو شروع کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ تلنگانہ ایگزبیٹرس اسوسی ایشن نے کہا کہ بہت جلد قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ ملٹی پلیکس تھیٹرس کے مالکین نے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے تاہم تھیٹر مالکین کو بعض دشواریاں پیش آسکتی ہیں۔ تھیٹر میں عوام کی آمد کے بارے میں بھی کئی شبہات پائے جاتے ہیں۔ کورونا کے خوف سے تھیٹرس میں فلموں کی نمائش میں عوام کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں تقریباً 160 چھوٹے اور بڑے تھیٹرس ہیں جبکہ تلنگانہ کے اضلاع میں تھیٹرس کی تعداد 560 ہے۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں 300 ملٹی پلیکس ہیں جن میں سے 60 تا 70 حیدرآباد اور دیگر اضلاع میں ہیں۔ ایگزیبیٹرس کا کہنا ہے کہ تھیٹرس کی کشادگی کا مطلب یہ نہیں کہ آمدنی کا فوری آغاز ہوجائے گا۔ تھیٹرس کو کھولنے کے باوجود نئی فلموں کی عدم موجودگی سے بھی آمدنی پر فرق پڑ سکتا ہے۔