سوریاپیٹ میں ترقی کا پہیہ آخرکیوں رک گیا؟

   

Ferty9 Clinic

حکومت کی بے توجہی پرکویتا کا اظہار برہمی‘سوریا پیٹ میں جنم باٹا پروگرام سے خطاب
سوریا پیٹ۔3/جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے جاگروتی جنم باٹا پروگرام کے تحت ضلع سوریہ پیٹ کے تنگاترتی اسمبلی حلقہ کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف مقامات پر تعلیمی طبی اور آبپاشی سہولتوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے عوامی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا اور حکومت کی بے توجہی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔کویتا نے تنگاترتی حلقہ کے جاجی ریڈی گوڑم اور اروپلی میں واقع اسکولوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ساوتری بائی پھولے کے یومِ پیدائش کے موقع پر ان کی تصویر پر گلپوشی کی گئی اور ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ صدر تلنگانہ جاگروتی نے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی انہیں تہنیت پیش کی اور طالبات میں چاکلیٹس تقسیم کیں۔بعد ازاں کلواکنٹلہ کویتا نے ایس آر ایس پی مرحلہ دوم کے تحت تنگاترتی کوداڑ اورسوریا پیٹ اسمبلی حلقوں کو پانی فراہم کرنے والی نہر کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ویلوگوپلی گاؤں میں واقع ردرما دیوی تالاب کا بھی جائزہ لیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ سوریا پیٹ ضلع مسلح جدوجہد اور انقلابی تحریکوں کی ایک درخشاں تاریخ رکھتا ہے جہاں بے شمار جانوں کی قربانیاں دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشہور انقلابی گیت ’’بنڈ ی اینوک بنڈ ی کٹی‘‘ کے خالق بندی یادگیری کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ آخر سوریا پیٹ ضلع میں ترقی کا پہیہ کیوں رک گیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جنم باٹا پروگرام کے تحت اسکولوں، اسپتالوں اور آبی وسائل کی موجودہ حالت کا زمینی سطح پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔اروا پلی منڈل کے کے جی بی وی اسکول کے تعلق سے کویتا نے کہا کہ ہر برسات کے موسم میں یہ اسکول پہلی منزل تک زیرِ آب آ جاتا ہے کیونکہ اسے مکمل طور پر تالاب کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ بی آر ایس حکومت اور موجودہ کانگریس حکومت نے نہروں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا اور آپریشن و مینٹیننس شعبہ کو بھی فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کوداڑ تک پانی پہنچانے والی 70 کلومیٹر طویل ڈسٹری بیوٹری نہر مکمل طور پر نظرانداز ہے۔ کویتا نے ساوتری بائی پھولے کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شدید مخالفت اور توہین کے باوجود لڑکیوں کی تعلیم کے لیے تاریخی جدوجہد کی اسی لیے آج بھی انہیں احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس پروگرام میں صدر جاگرتی کے ہمراہ عوام اور قائدین تھے۔