فرقہ وارانہ کشیدگی کی سازش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، ایم بی ٹی ترجمان امجد اللہ خاں کا بیان
حیدرآباد ۔5 ۔ مارچ (سیاست نیوز) مجلس بچاؤ تحریک نے سوریا پیٹ ضلع کے باشا نائک ٹانڈا میں واقع عیدگاہ کی بے حرمتی کے واقعہ پر احتجاج کرتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کی مذمت کی ۔ عیدگاہ کے حدود میں مردہ خنزیر پایا گیا جس کے بعد مقامی مسلمانوں نے سوریا پیٹ رورل پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے ۔ پولیس نے مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی۔ مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خاں خالد نے الزام عائد کیا کہ فرقہ پرست طاقتیں رمضان المبارک کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو بگاڑنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عیدگاہ جیسے مقدس مقام پر مردہ خنزیر کا پایا جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے ، بلکہ یہ منصوبہ بند طریقہ سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی غیر جانبدار اور جامع تحقیقات مقررہ مدت میں مکمل کرتے ہوئے سازش میں ملوث خاطیوں کی فوری گرفتاری عمل میں لائے ۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقامی انٹلیجنس کی مدد سے خاطیوں کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کیلئے سخت کارروائی کی جانی چاہئے ۔ امجد اللہ خاں نے کہا کہ ریاست میں کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد سے فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی کے چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد سے فرقہ پرست طاقتوں نے ماحول بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح کے واقعات سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور مذہبی مقامات جیسے مدارس ، مساجد اور درگاہوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔ دوسری طرف کانگریس حکومت کے اقدامات بھی مسلمانوں کے خلاف ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے ۔ ایم بی ٹی ترجمان نے سوریا پیٹ واقعہ کے خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی اور تمام مذہبی مقامات کے سیکوریٹی انتظامات کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ امن و امان برقرار رکھتے ہوئے غیر سماجی عناصر کے اشتعال کا شکار نہ ہوں ۔1