سوریہ نمسکار کو اختیاری قرار دینے عہدیداروں کو ڈپٹی چیف منسٹر آندھراپردیش کی ہدایت

   

مسلم تنظیموں کی نمائندگی ، سکریٹری تعلیم کو امجد باشاہ کا مکتوب
حیدرآباد۔5۔ جنوری (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے ملک کے تمام اسکولوں میں یکم جنوری تا 7 فروری سوریہ نمسکار پروگرام کے فیصلہ کی مسلم جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے۔ آندھراپردیش کے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے سوریہ نمسکار پروگرام پر عمل آوری کیلئے احکامات جاری کئے۔ اس مسئلہ پر مسلمانوں میں بے چینی کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر آندھراپردیش ایس بی عظمت باشاہ نے پرنسپل سکریٹری محکمہ تعلیم کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سوریہ نمسکار پروگرام کو لازمی قرار دینے کے بجائے ہر طالب علم کے لئے اختیاری بنانے کی ہدایت دی۔ امجد باشاہ نے اپنے مکتوب میں جمیعت العلماء کی جانب سے نمائندگی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈائرکٹر
SCERT
امراوتی نے تمام ریجنل جوائنٹ ڈائرکٹرس اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسرس کو اپنے حدود میں واقع تمام اسکولوں میں یکم جنوری تا 7 فروری سوریہ نمسکار پروگرام پر عمل آوری کی ہدایت دی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ مسلم تنظیموں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ پروگرام دستور کی روح کے خلاف ہے اور دستور میں دفعہ 25 ، 26 ، 28 اور 29 کے تحت ہر شہری کو مذہبی آزادی فراہم کی ہے۔ ایسے میں سوریہ نمسکار جیسے پروگرام کو نافذ کرنا مخصوص مذہب کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہوگا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے پرنسپل سکریٹری اسکول ایجوکیشن کو ہدایت دی کہ وہ ریاست میں اس پروگرام کو طلبہ کیلئے اختیاری قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کریں۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے ملک کی تمام ریاستوں میں سوریہ نمسکار پروگرام پر عمل آوری کی ہدایت دی ہے۔ تلنگانہ حکومت کو چاہئے کہ وہ بھی اس پروگرام کو لازمی کے بجائے اختیاری قرار دے تاکہ مسلم طلبہ و طالبات اس غیر شرعی حرکت سے بچ سکیں۔ ر