سوشیل میڈیا پر ہریش راؤ کو چیف منسٹر بنانے کے مطالبہ میں شدت

,

   

ٹی آر ایس میں سب کچھ ٹھیک نہیں، گروپ بندیاں تیز ہوچکیں ، کابینہ میں توسیع کئے جانے کاا مکان
حیدرآباد۔6ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرسمیتی میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے اور پارٹی کی کمان کے متعلق بھی سوشل میڈیا پر جاری تبصروں نے حلقوں میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔ریاستی وزیر صحت مسٹر ایٹالہ راجندر کی جانب سے کریم نگر میں دیئے جانے والے بیان اور مسٹر ٹی ہریش راؤ کو ریاست کے چیف منسٹر بنائے جانے کی مہم سوشل میڈیا پر شروع کئے جانے کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے ٹی آر ایس کے لئے اس پر فوری قابو پانا مشکل ہوتا نظر آرہا ہے۔ مسٹر ایٹالہ راجندر کی جانب سے حضور نگر میںدئے گئے بیان اور اس کے بعدچیف منسٹر کی جانب سے طلب کردہ دو اجلاسوں میں عدم شرکت کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر پارٹی کارکنوں کی جانب سے کئے جانے والے تبصروں پر اب تک منتخبہ عوامی نمائندے اور سرکردہ قائدین خاموش تھے لیکن اب ارکان اسمبلی کی جانب سے مسٹر ایٹالہ راجندر پر تنقیدیں کی جانے لگی ہیں۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی سربراہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے مسٹر کے ٹی راما راؤ کو پارٹی کا کارگذار صدر بنانے کے فوری بعد ہی حالات تبدیل ہونے لگے تھے لیکن اب جو صورتحال ہے اس میں مسٹر ٹی ہریش راؤ کے علاوہ مسٹر ایٹالہ راجندر کو بھی نشانہ بنایاجانے لگا ہے جبکہ دونوں ہی ریاست میں عوامی قائد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تلنگانہ میں سیاسی حالات میں تبدیلی کس طرح آئے گی یہ بات ابھی کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن سوشل میڈیا پر ٹی ہریش راؤ کو چیف منسٹر بنائے جانے کے مطالبہ میں پیدا ہونے والی شدت اور پارٹی قائدین و کارکنوں کی جانب سے کی جانے والی تائید کے علاوہ کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی شخصیت کے موازنہ کی شروعات نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے بلکہ گروپ بندیاں تیز ہوچکی ہیں اور ان گروپ بندیوں کو روکنے کیلئے کابینہ کی توسیع کے عمل کو فی الوقت کیلئے ملتوی کئے جانے کا بھی امکان ہے۔