سوشیل میڈیا کو انتخابی مہم میں مرکزی مقام ‘ ووٹرس تک بآسانی رسائی

   

سماج کے مختلف طبقات کیلئے علیحدہ گروپس کی تشکیل ۔باضابطہ ٹیموں کی تشکیل ۔ خاطر خواہ بجٹ مختص

حیدرآباد22 نومبر ( سیاست نیوز ) انٹرنیٹ کے عام اور ہر ایک کیلئے قابل رسائی ہوجانے کے نتیجہ میں اسمبلی انتخابات میں سوشیل میڈیا کے اثرات میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ ویسے تو ہر جماعت اور ہر امیدوار کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران تشہیر پر خاص توجہ دی جاتی ہے اور اس کیلئے جامع منصوبہ بندی اور حکمت عملی بنائی جاتی ہے تاہم 2023 کے اسمبلی انتخابات میں سارے تلنگانہ میں سوشیل میڈیا انتہائی اہمیت کا حامل ہوگیا ہے ۔ سیاسی جماعتیں ہوں ‘ ان کے امیدوار ہوں یا پھر امیدواروں کے حامی ہوں سبھی کی جانب سے سوشیل میڈیا کا زبردست استعمال ہوگیا ہے اور اس کے ذریعہ اپنی اپنی انتخابی مہم کی تشہیر کی جانے لگی ہے ۔ سوشیل میڈیا کے ذریعہ ہی عوامی پروگرامس اور پیدل دوروں اور انتخابی ریلیوں ‘ کارنر میٹنگس اور جلسوں وغیرہ کی تشہیر کی جا رہی ہے ۔ خاص بات یہ دیکھی گئی کہ تقریبا تمام ہی امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے سوشیل میڈیا پر خاص توجہ دیتے ہوئے انتخابی مہم کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ سوشیل میڈیا کو متحرک رکھنے اور مسلسل عوام تک رسائی حاصل کرنے کیلئے ہر جماعت نے باضابطہ ٹیمیں تیار کی ہیں اور سوشیل میڈیا کیلئے خاصہ بجٹ بھی مختص کیا گیا ہے ۔ فیس بک ‘ واٹس ایپ اور انسٹا گرام وغیرہ پر گروپس بناتے ہوئے اپنی اپنی تشہیر میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ سوشیل میڈیا کے جو گروپس بنائے گئے ہیں ان میں بھی کئی پہلووں کا خیال رکھا گیا ہے ۔ بعض مخصوص علاقوں کے گروپس بنائے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں بھی نوجوانوں کے گروپ الگ ہیں۔ خواتین کیلئے گروپس پر خاص توجہ دی جا رہی ہے ۔ ان گروپس کے ذریعہ خواتین کو ہمنوا بنانے اور انہیں اپنی اپنی اسکیمات اور منصوبوں سے واقف کروانے پر توجہ دی جا رہی ہے ۔ اسی طرح مذہبی رجحان رکھنے والے عوام کیلئے بھی الگ گروپس بنائے گئے ہیں ۔ تاجر ووٹرس پر توجہ دینے کیلئے گروپس علیحدہ ہیں۔ سوشیل میڈیا ٹیموں کی جانب سے ہر گروپ کی ترجیحات اور ان کی پسند وغیرہ کا خیال رکھتے ہوئے اسی نوعیت کا مواد ان گروپس میں شئیر کیا جا رہا ہے ۔ امیدواروں کی جانب سے انتخابی تشہیر کیلئے روایتی طریقہ کار اختیار کرنے کی بجائے کئی اختراعی اقدامات کئے گئے ہیں اور ان سب میںسوشیل میڈیا کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہوگیا ہے ۔ امیدواروں اور ان کی سوشیل میڈیا ٹیمس کا دعوی ہے کہ انتخابی نتائج پر بھی سوشیل میڈیا کی سرگرمیوں کا بہت زیادہ اثر رہے گا اور رائے دہندوں کو ہمنوا بنانے اور ان کی تائید حاصل کرنے میںان کیلئے سوشیل میڈیا معاون ثابت ہو رہا ہے اور وہ اپنے انداز میں موثر ڈھنگ سے اپنے پیامات اپنے عوام تک پہونچانے میں بآسانی کامیاب ہو رہے ہیں۔