نوجوان طبقہ مالی مسائل کا شکار، قوت خرید سے زیادہ اشیاء کی خریدی کے بعد درد سر
حیدرآباد۔22اگسٹ(سیاست نیوز) قوت خرید سے زیادہ کے اشیاء ضروریہ کی خریدی کرنے والے اکثر لوگ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گذارنے والے ہوتے ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی اشتہاری مہم اور بروقت کسی بھی شئے کی خریدی کے لئے رقمی مدد سے متاثر ہوتے ہوئے اپنی استطاعت سے زیادہ کی اشیاء خرید لیتے ہیں اور ان کی یہ خریدی ان کے لئے معاشی حالات کو ابتربنانے کی ذمہ دار ثابت ہونے لگتی ہے۔ حالیہ عرصہ میں منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ جس میں بین الاقوامی سطح پر معاشی طور پر تباہ ہونے والوں کا جائزہ لیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ نئی اشیاء بالخصوص الکٹرانکس ‘ فونس‘ برانڈیڈ کپڑے ‘ گاڑیاں وغیرہ خریدتے رہتے ہیں اوران کی خریدی اقساط پر ہوا کرتی ہے جس کے سبب ان کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کا کوئی موقع انہیں میسر نہیں آتا ۔سوشل میڈیا پر لوگوں کے آگے اپنی شخصیت کو بہتر بنانے اور ان کی برابری کی کوشش میں کئی لوگ معاشی بدحالی کا شکار ہونے لگے ہیں اور ان کی اس بدحالی کا سبب اعلیقوت خرید سے زیادہ کے اشیاء کی خریدی کرنے والے اکثر لوگ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گذارنے والے ہوتے ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی اشتہاری مہم اور بروقت کسی بھی شئے کی خریدی کے لئے رقمی مدد سے متاثر ہوتے ہوئے اپنی استطاعت سے زیادہ کی اشیاء خرید لیتے ہیں اور ان کی یہ خریدی ان کے لئے معاشی حالات کو ابتر کرنے کی ذمہ دار ثابت ہونے لگتی ہے۔ حالیہ عرصہ میں منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ جس میں بین الاقوامی سطح پر معاشی طور پر تباہ ہونے والوں کا جائزہ لیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ نئی اشیاء بالخصوص الکٹرانکس ‘ فونس‘ برانڈیڈ کپڑے ‘ گاڑیاں وغیرہ خریدتے رہتے ہیں اوران کی خریدی اقساط پر ہوا کرتی ہے جس کے سبب ان کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کا کوئی موقع انہیں میسر نہیں آتا ۔سوشل میڈیا پر لوگوں کے آگے اپنی شخصیت کو بہتر بنانے اور ان کی برابری کی کوشش میں کئی لوگ معاشی بدحالی کا شکار ہونے لگے ہیں اور ان کی اس بدحالی کا سبب اعلیٰ اور معیاری خریداری بنتی جا رہی ہے لیکن کو ئی اس پر روک لگانے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے جبکہنوجوان نسل کے علاوہ ان کے والدین اور سرپرستوں کی جانب سے اس معاملہ میں انہیں روک ٹوک کے ذریعہ ان کے اخراجات کو قابو میں رکھنے کے علاوہ معاشی منصوبہ بندی کی تربیت فراہم کی جاسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اکثر شہری علاقوں میں برانڈیڈ اشیاء کی خریدی کے رجحان میں اضافہ کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا بتائی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعہ کی جانے والی تشہیر کے ساتھ خود کو بہتر سے بہتر پیش کرنے کے چکر میں نوجوان نسل قرض کے جال میں پھنستی جا رہی ہے اور وہ اپنیمعیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش نہیں کر پارہے ہیں اورکچھ وقت گذرنے کے بعد انہیں اپنی ہی قیمتی اشیاء کی فروخت کے ذریعہ اپنی پر تعیش زندگی گذارنے کی کوشش کرنی پڑرہی ہے۔ نوجوانوں میں فروغ پا رہے اس رجحان کو دیکھتے ہوئے مختلف کمپنیوںکی جانب سے مختلف پیشکش اور اسکیمات متعارف کروائی جا رہی ہیں جو کہ بظاہر دلچسپ اور متاثر کن نظر آتی ہیں لیکن ان اسکیمات سے استفادہ حاصل کرنے والے نوجوان صرف قرض کے دلدل میں اترتے چلے جاتے ہیں انہیں اس دلدل سے نکالنا یا ان کا خود سے نکل پانا انتہائی مشکل ہونے لگتا ہے اسی لئے نوجوانوں میں برانڈ اور نئی اشیاء کے استعمال کے رجحان میں اضافہ کے ساتھ ہی والدین اور سرپرستوں کو فوری طور پر چوکسی اختیار کرتے ہوئے انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے۔M