سوشیل میڈیا کے خطرناک نتائج ‘ کم عمر لڑکے لڑکیوں کا تحفظ ضروری

   

اجنبیوں سے دوستی کے سنگین نتائج ۔ جنسی استحصال اور بلیک میلنگ کا شکار ہونے کے واقعات

حیدرآباد /18 اپریل ( سیاست نیوز ) سوشیل میڈیا پر مصروفیت کے خطرناک نتائج منظر عام پر آنے لگے ہیں۔ خاص کر بچوں اور کم عمر لڑکے لڑکیوں کی سوشیل میڈیا سے رغبت تباہی کا سبب بن رہی ہے اور سماجی ذمہ داری و اخلاقیات سے دور ہو رہے ہیں ۔ انجان افراد سے دوستی اور شہرت کی دوڑ میں زندگیاں تباہ کر رہے ہیں ۔ کئی تو ایسے ہیں جو کم عمر میں بلیک میلنگ و جنسی ہراسانی کا شکار بن رہے ہیں تو کئی بار بچوں میں حیرت ناک تبدیلی دیکھی جارہی ہے ۔ کم عمر لڑکے لڑکیوں میں مجرمانہ صفات پروان چھڑ رہے ہیں۔ حد تو یہ ہوگئی کہ اب انہیں والدین کی بھی پرواہ نہیں ۔ نئے رشتے بنانے میں عظیم رشتوں کو قدموں تلے روندنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں ۔شہر میں کئی واقعات پیش آچکے ہیں۔ گذشتہ دنوں کم عمر بھائی بہن والدین کی ڈانٹ ڈپٹ سے گھر سے فرار ہوگئے تھے ۔ یہ واقعہ تازہ تھا کہ بنجارہ ہلز میں 16 سالہ لڑکی نے ناراض ہوکر گھر چھوڑ دیا کہ والدین نے سوشیل میڈیا پر مصروف رہنے سے روکا تھا ۔ واقعہ کے بعد درج شکایت کا پولیس نے جائزہ لیا اور لڑکی کی تلاش شروع کردی ۔ روڈ نمبر 12 سید نگر سے 16 سالہ لڑکی کے لاپتہ ہونے کا پولیس جائزہ لے رہی ہے ۔ چند ماہ قبل آس پاس علاقوں میں تشویشناک واقعہ پیش آیا تھا ۔ انسٹاگرام پر جان پہچان کے بعد ایک شخص نے اپنی آدھی سے کم عمر والی لڑکی کا جنسی استحصال کیا ۔ مہاراشٹرا سے شہر پہونچکر لڑکی سے ملاقات کی تھی اور پارک میں زبردستی کرکے جنسی استحصال کیا ۔ انسٹاگرام پر لڑکی کو پھانس کر ویڈیوز حاصل بنایا اور بلیک میل کیا تھا ۔ آئے دن منظر عام پر آرہے یہ واقعات یقیناً والدین اور سرپرستوں کیلئے لمحہ فکر ہیں۔ تعلیم کے بہانے آن لائن رہنے والے بچوں پر نظر رکھنا ور کم عمر بچوں کو انٹرنیٹ سے دور رکھنا ضروری ہوگیا ہے ۔ اب والدین کیلئے یہ بھی مشکلات پیش آرہی ہیں جب بچوں کو سوشیل میڈیا سے روکا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی یہ سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ع